ملفوظات (جلد 2) — Page 223
میں مسیح موعود کی نسبت لکھا ہے کہ وہ حنفی مذہب پر ہو گا۔اس کا کیا مطلب ہے۔فرمایا۔اس سے یہ مراد ہے کہ جیسے حضرت امام اعظم قرآن شریف ہی سے استدلال کرتے تھے اور قرآن شریف ہی کو مقدم رکھتے تھے اسی طرح مسیح موعود بھی قرآن شریف ہی کے علوم اور حقائق کو لے کر آئے گا۔چنانچہ اپنے مکتوبات میں دوسری جگہ انہوں نے اس راز کو کھول بھی دیا ہے اور خصوصیت سے ذکر کیا ہے کہ مسیح موعود کو قرآنی حقائق کا علم دیا جائے گا۔کیا مہدی جنگ اور خون ریزی کرے گا پھر یکم اگست والے سائل نے کہا کہ مہدی کی نسبت لکھا ہے کہ وہ خون کرے گاوغیرہ۔حضرت نے فرمایا۔میں نے تمہارا مطلب سمجھ لیا ہے۔یاد رکھو مہدی کی نسبت جو حدیثیں ہیں جن میں لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا اور خونریزی کرے گا۔ان کی نسبت خود ان مولویوں نے لکھ دیاہے کہ بہت سی حدیثیں ان میں موضوع ہیں اور قریباً سب کی سب مجروح ہیں۔ہمارا یہ مذہب نہیں ہے کہ مہدی آئے گا تو خون کرتا پھرے گا۔بھلا وہ دین کیا ہوا جس میں سوائے جنگ اور جدال کے اور کچھ نہ ہو۔جہاد کے مسئلہ کو بھی ان نا واقفوںنے نہیں سمجھا۔قرآن شریف تو کہتا ہےلَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ(البقرۃ:۲۵۷) تو کیا اگر مہدی آکر لڑائیاں کرے گا تو اکراہ فی الدین جائز ہو گا اور قرآن شریف کے اس حکم کی بے حرمتی ہوگی اس کے آنے کی غرض تو یہ ہے کہ وہ اسلام کو زندہ کرے۔یا یہ کہ اس کی توہین کرے اگر دین میں لڑائیاں ہی ضروری ہوتی ہیں تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک مکہ میں رہ کر کیوں نہ لڑے۔ہر قسم کی تکلیف اٹھاتے رہے اور پھر بھی آپ نے ابتدا نہیں کی اور ہمارا مذہب ہے کہ جبراً مسلمان کرنے کے واسطے لڑائیاں ہرگز نہیں کی ہیں بلکہ وہ لڑائیاں خدا تعالیٰ کا ایک عذاب تھا ان لوگوں کے لئے جنہوں نے آپ کو سخت تکالیف دی تھیں اور مسلمانوں کا تعاقب کیا اور ان کو تنگ کیا تھا۔پس یہ ہرگز صحیح نہیں ہے کہ اسلام تلوار دکھاتا ہے۔اسلام تو قر آن اور ہدایت پیش کرتا ہے۔وہ صلح اور امن لے کر آیا ہے اور دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جو اسلام کی طرح صُلح پھیلاتا ہو۔