ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 216

خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔معراج حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کی بابت کسی نے سوال کیا فرمایا۔سب حق ہے۔معراج ہوئی تھی مگر یہ فانی بیداری اور فانی اشیاء کے ساتھ نہ تھی بلکہ وہ اور رنگ تھا۔جبرائیل بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا اور نیچے اترتا تھا۔جس رنگ میں اس کا اترنا تھا اسی رنگ میں آنحضرتؐکا چڑھنا ہوا تھا۔نہ اترنے والا کسی کو اترتا نظر آتا تھا اور نہ چڑھنے والا کو ئی چڑھتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔حدیث شریف میں جو بخاری میں ہے آیا ہے کہ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ یعنی پھر جاگ اٹھے۔بائبل اور سائنس حضرت نوحؑکی کشتی کا ذکر تھا۔فرمایا۔بائبل اور سائنس کی آپس میں ایسی عداوت ہے جیسی کہ دو سوکنیں ہوتی ہیں۔بائبل میں لکھا ہے کہ وہ طوفان ساری دنیا میں آیا اور کشتی تین سو ہاتھ لمبی اور پچاس ہاتھ چوڑی تھی اور اس میں حضرت نوحؑ نے ہر قسم کے پاک جانوروں میں سے سات جوڑے اور ناپاک میں سے دو جوڑے ہر قسم کے کشتی میں چڑھائے حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اول تو اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کیا جب تک پہلے رسول کے ذریعہ سے اس کو تبلیغ نہ کی ہو اور حضرت نوحؑ کی تبلیغ ساری دنیا کی قوموں پر کہاں پہنچی تھی جو سب غرق ہو جاتے۔دوم اتنی چھوٹی سی کشتی میں جو صرف ۳۰۰ ہاتھ لمبی اور ۵۰ ہاتھ چوڑی ہو۔ساری دنیا کے جانور بہائم، چرند، پرند سات سات جوڑے یا دو دو جوڑے کیونکر سما سکتے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب میں تحریف ہے اور اس میں بہت سی غلطیاں داخل ہو گئی ہیں۔تعجب ہے کہ بعض سادہ لوح علماء اسلام نے بھی ان باتوں کو اپنی کتابوں میں درج کر لیا ہے مگر قرآن شریف ہی ان بے معنی باتوںسے پا ک ہے۔اس پر ایسے اعتراض وارد نہیں ہو سکتے۔اس میں نہ تو کشتی کی لمبائی چوڑائی کا ذکر ہے اور نہ ساری دنیا پر طوفان آنے کا ذکر ہے بلکہ صرف الارض یعنی وہ زمین جس میں نوح نے تبلیغ کی صرف اس کا ذکر ہے۔لفظ اراراٹ جس پر نوح کی کشتی ٹھہری اصل اَرٰی رِیت ہے۔جس کے معنے ہیں مَیں پہاڑ کی