ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 210

اور تم لوگ اس کو پڑھتے رہے اور اس کتاب کی تعریف کرتے رہے۔اور اس کے ریویو میںلمبی چوڑی تحریریں کرتے رہے تو اس کے بعد کون سی نئی بات ہو ئی ہے۔مولوی نذیر حسین دہلوی نے اس کتاب کے متعلق خود میرے سامنے کہا تھا کہ اسلام کی تائید میں جیسی عمدہ یہ کتاب لکھی گئی ہے ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔اس وقت منشی عبد الحق صاحب بھی موجود تھے اور بابو محمد صاحب بھی موجود تھے۔یہ وہ زمانہ براہین کا تھا جب کہ تم خود تسلیم کرتے تھے کہ اس میں کوئی بناوٹ وغیرہ نہیں۔اگر یہ خدا کا کلام نہ ہوتا تو کیا انسان کے لئے ممکن تھا کہ اتنی مدت پہلے سے اپنی پٹڑی جمائے اور ایسا لمبا منصوبہ سوچے۔اب چاہیے کہ یہ لوگ اس نفاق کا جواب دیں کہ اُس وقت کیوں ان لوگوں کو یہی باتیں اچھی معلوم ہوتی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ مہدی جو آنے والا ہے اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام اور اس کی ماں کا نام میری ماں کا نام ہو گا اور وہ میرے خلق پر ہو گا۔اس سے آنحضرتؐکا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا جیساکہ ایلیا نبی کا مظہر یوحنا نبی تھا۔اس کو صوفی بروز کہتے ہیں کہ فلاں شخص موسیٰ کا مظہر اور فلاں عیسیٰ کا مظہر ہے۔نواب صدیق حسن خان نے بھی اپنی کتاب میںلکھا ہے کہ اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ سے وہ لوگ مرادہیں جو مہدی کے ساتھ ہو ں گے اور وہ لوگ قائم مقام صحابہؓ کے ہوں گے اور ان کا امام یعنی مہدی قائم مقام حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہو گا۔۱ ۲۰؍ جولائی ۱۹۰۱ء ذاتیات میں دخل تقویٰ کے خلاف ہے منشی الٰہی بخش صاحب اور ان کے رفیق اور ان کی تصنیف عصائے موسیٰ کا کچھ ذکر تھا۔کسی نے کہا کہ فلاں شخص ان لوگوں کے چال چلن کی نسبت ایسی بات کہتا تھا۔فرمایا۔ہم اس میں نہیں پڑتے اور نہ ہم اس طرح ذاتیات میں دخل دیتے ہیں۔یہ بات تقویٰ کے