ملفوظات (جلد 2) — Page 206
ہی اتری ہے۔صحابہ بازاروں میں اس آیت کو پڑھتے پھرتے تھے اور بعضوں نے شعر کہے۔الغرض اب یہ کیسی سچی بات ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو صرف اس لئے پڑھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر استدلال کریں لیکن اگر کوئی نبی مثلاً مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا تھا اور صحابہ کا اعتقاد یہی تھا تو کیا صحابہ میں سے ایک کو بھی جرأت نہ ہوئی کہ وہ حضرت ابوبکر کا منہ بند کرتا اور کہتا کہ آپ کیوں کر کہتے ہیں جبکہ مسیح ابھی زندہ ہے مگر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ تسلیم کر لیا۔اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سب سے پہلا اجماع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیح علیہ السلام کی وفات پرہی ہوا تھا اور اس کے علاوہ قرآن کریم میں بہت سی آیات اس قسم کی موجود ہیں۔تو یہ مسئلہ بہت صاف اور روشن ہے۔مہدی حسن۔(اس تقریر کو سن کر پھر کچھ بولے)مگر میرا تو یہ سوال نہیں۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ مسیح ابن مریم کا وعدہ حدیثوں میں کیوں کیاگیا۔صاف لفظوں میں مثیل مسیح کہا ہوتا۔حضرت اقدس۔میں اس کا کیا جواب دوں۔یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایسے ہی اعتراض کئے تھے۔جب انہوں نے کہا کہ لکھا ہے کہ مسیح سے پہلے ایلیا آسمان سے اترے۔میرے پاس ایک یہودی کی کتاب ہے۔اس میں وہ صاف لکھتا ہے کہ اگر خدا ہم سے انکار مسیح کے وجوہات پوچھے گا تو ہم ملاکی نبی کی کتاب سامنے رکھ دیں گے کہ اس میں کہاں لکھا ہے کہ ایلیا کا مثیل یوحنا آئے گا۔الغرض ایسے اعتراض پہلے بھی ہوئے ہیں اور مجھ پر یہ نئے اعتراض نہیں اور یہ اعتراض تو درحقیقت خدا تعالیٰ پر ہے لیکن اگر آپ لوگ غور کریں تو صاف معلوم ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی سنّت اسی طرح پر ہے۔مہدی حسن۔علم بدل نہیں سکتا۔حضرت اقدس۔اگر آپ کا یہی مذہب ہے تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ حدیث میں جو آیا ہے کہ ہر بچے کو جب وہ پیدا ہوتا ہے شیطان مَس کرتا ہے مگر ابن مریم کو اس نے مَس نہیں کیا۔آپ اس کے کیا معنے کرتے ہیں؟