ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 201

مہدی حسن۔توفّی کی بحث صرف و نحو کے بغیر نہیں آتی اور ہم یہ صرف و نحو نہیں جانتے۔حضرت اقدس۔اگر صرف و نحو نہیں آتی تو کیا یہ میرا قصور ہے۔یہ تو تمہارا ہی قصور ہے۔اس کے علاوہ میں قرآن کو پوتھی بنا نا نہیں چاہتا۔قرآن شریف اُمّیوں کے لئے اُمّی پر نا زل ہوا۔اگر قرآن سے استدلال نہ کریں تو کیا کسی شاستر سے کریں۔مسلمانوں کو عربی سے ایک خاص تعلق ہے اور یہ ان کی بد قسمتی ہے جو وہ اس پر تو جہ نہیں کرتے مگر یہ مسئلہ تو ایسا صاف ہے کہ اس میں کسی بڑے صرف و نحو کی بھی ضرورت نہیں۔عام آدمی بھی جانتے ہیں کہ متوفّی کے کیا معنے ہوتے ہیں۔۱ مہدی حسن۔کلام اللہ میں جب مسیح کی نسبت توفّی آگیا تو مثیل مسیح کی آمد کس بنا پر ہے؟ حضرت اقدس۔قرآن کی بنا پر۔مہدی حسن۔اس معاملہ میں جو احادیث ہیں ان کو جناب صحیح جانتے ہیں یا موضوع ٹھہراتے ہیں۔حضرت اقدس۔ہمارا اصول یہ ہے کہ جو احادیث صحیحہ قرآن کریم کی نصوص صریحہ بیّنہ کے موافق ہوں ان کو ہم مانتے ہیں لیکن جو احادیث قرآن کریم کے اصول کے خلاف ہوں ان کے ہم ایسے معنے کرنے کی کوشش کریں گے جو کتاب اللہ کی نصّ بیّن کے موافق اور مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی حدیث ایسی پائیں گے جو مخالف نصِ قرآن کریم ہوگی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے اور قولِ مردودہ سمجھ کر چھوڑ دیں گے کیونکہ حدیث کا پایہ قرآن کریم کے مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔مہدی حسن۔بے شک یہ صحیح اصول ہے مگر جو احادیث ابن مریم کے متعلق خاص ہیں ان کو جناب نے منظور رکھا یا ساقط کر دیا ہے۔حضرت اقدس۔مَیں نے تو کہہ دیا ہے کہ میرا اصول احادیث کے متعلق یہی ہے کہ اگر وہ قرآن کریم کے نصوصِ بیّنہ کے ہر طرح مخالف ہیں مَیں ان کو کبھی تسلیم نہیں کرتا۔پس اسی اصول کے موافق اگر کسی حدیث میںیہ لکھا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی نبی جو ناصرہ میں پیدا ہوا تھا اور جس کو