ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 186

ہوئے۔پہلے اور طرف بیٹھا کرتے تھے۔اس طرف بیٹھنے کے لئے یہ پہلی مرتبہ تھی آپ نے فرمایا۔یہ جگہ باقی رہ گئی تھی۔اسی عرصہ میں ایک شخص معزز حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑے تپاک اور خندہ پیشانی سے حضرت سے مصافحہ کیا اور کچھ باتیں کرتے رہے اور اپنے لڑکے کے لئے جو بیمار تھا دعا کے لئے عرض کی۔آپ نے دعا کا وعدہ فرمایا پھر اس نے عرض کی کہ جناب ہمارے لئے ہی یہاں تشریف لائے ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہمارے واسطے ہی آپ کی تشریف آوری کی سبیل پیدا کی ہے کہ ہم مشتاقوں کو بھی آپ کی زیارت سے سعادت مند و بہرہ ور فرمائے۔حضرت نے جواباً ارشاد فرمایا۔ہاں ایسا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جو قادیان میں کسی وجہ سے نہیں آسکتے اور اپنے اندر اخلاص رکھتے ہیں ہماری ملاقات سے محروم نہ رکھے۔فرمایا۔لکھا ہے کہ دو بزرگ ایک حضرت سید عبد القادر جیلانی کے مرشد حضرت ابو سعید اور ایک اور بزرگ ایک مقام میں جمع ہوئے اور گفتگو یہ ہوئی کہ حضرت اقدس و اکرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے مدینہ میں ہجرت کرا کر کیوں خدا تعالیٰ لے گیا۔ان دونوں بزرگوں میں سے ایک نے فرمایا کہ مصلحت و حکمتِ الٰہی اس بات کی مقتضی تھی کہ جو مراتب اور علو درجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کرنے تھے وہ اس ہجرت اور سفر اور مصائب و تکالیفِ شدیدہ کے برداشت کرنے سے آپ کو عنایت فرمائے۔دوسرے بزرگ نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ آتا ہے کہ مدینہ میں بہت سی ایسی روحیں پُر جوش اور بااخلاص اور خدا تعالیٰ کی طرف دوڑنے والی تھیں جو ایک ذریعہ عظیمہ اور سببِ کبریٰ کو چاہتی تھیں اور وہ بباعث کسی سبب یا بے دست و پا ہونے کے کہیں جا نہیں سکتی تھیں سو ان کے تکمیل کے لئے خدا وند جل شانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں پہنچایا۔غرض ان بزرگوں نے اپنے اپنے خیال کے مطابق یہ دو باتیں بیان کیں اور دونوں ہی باتیں سچی تھیں سو خدا تعالیٰ جو ہمیں گورداسپور لایا اور وہ اپنی مرضی اور حکمت کے رو سے لایا نہ ہم خود اپنی مرضی اور خواہش سے آئے۔خدا ہی جانے اس میں کیا اس کی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اور ہمارے ذریعہ یا ہمارے وجود سے حق کی کیا کیا تبلیغ اور سچائی کی کیا کیا حجتیں پوری ہوں گی اور خدا کے علم میں اور کیا کیا باتیں ہیں جو ہمیں معلوم نہیں۔