ملفوظات (جلد 2) — Page 185
ایسے اسباب اختیار نہ کرے جو خدا تعالیٰ کی ناراضی کا موجب ہوں۔میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ دعا کروں گا تم خود اپنی صلاحیت میں مشغول ہو اور خدا تعالیٰ سے صلح کرو کہ وہی کار ساز ہے۔۱ جس روز رات کو گورداسپور پہنچے تھے حضرت اقدسؑ کی طبیعت کسی قدر ناساز تھی باینہمہ حضرت اقدسؑ نے تمام احباب کو جو ساتھ تھے آرام کرنے اور سو جانے کی ہدایت فرمائی تھی چنانچہ تعمیلِ ارشاد کے لئے متفرق مقامات پر احباب جاکر سو رہے۔برادرم عبدالعزیز صاحب اور دو تین اور دوست اس مکان میں رہے جہاں حضرت اقدس آرام کرتے تھے۔ساری رات حضرت اقدس ناسازیِ طبیعت اور شدّتِ حرارت کی وجہ سے سو نہ سکے۔چونکہ بار بار رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اس لئے بار بار اُٹھتے تھے۔حضرت اقدس ارشاد فرماتے تھے کہ میں حیران ہوں منشی عبدالعزیز صاحب ساری رات یا تو سوئے ہی نہیں اور یا اس قدر ہوشیاری سے پڑے رہے کہ اِدھر میں سر اٹھاتا تھااُدھر منشی صاحب فوراً اُٹھ کر اور لوٹا لے کر حاضر ہوجاتے تھے۔گویا ساری رات یہ بندہ خدا جاگتا ہی رہا۔اور ایسا ہی دوسری رات بھی۔پھر فرمایا کہ درحقیقت آدابِ مرشد اور خدمت گزاری ایسی شے ہے جو مرید و مرشد میں ایک گہرا رابطہ پیدا کر کے وصول الی اللہ اور حصول مرام کا نتیجہ پیدا کرتی ہے۔اس خلوص اور اخلاص کو جو منشی صاحب میں ہے ہماری جماعت کے ہر فرد کو حاصل کرنا چاہیے۔جب دس بج چکے تو حضرت اقدس نے کچہری کو چلنے کا حکم دیا چنانچہ ارشاد عالی سنتے ہی خدام اٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح پر کوئی چالیس آدمیوں کے حلقہ میں خدا کا برگزیدہ ادائے شہادت کے لئے چلا۔راستہ میں لوگ دوڑ دوڑ کر زیارت کرتے تھے۔آخر ضلع کی کچہری آگئی اور کچہری کے سامنے جو پختہ تالاب ہے اس کے جنوب اور شرقی گوشہ پر دری بچھائی گئی اور حضرت اقدس تشریف فرما ہوئے۔حضور کا تشریف رکھنا ہی تھا کہ ساری کچہری امنڈ آئی اور اس دری کے گرد ایک دیوار بن گئی زائرین کا ہجوم دم بدم بڑھتا جاتا تھا ایک آتا تھا دوسرا جاتا تھا چونکہ تیسری یا چوتھی دفعہ تھی جو حضور گورداسپور کی کچہری میں رونق بخش ہوئے۔۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ۱۰