ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 12

اور حرب کو اٹھا دے گا۔دوسری طرف اندرونی طور پر مصالحت کرا دے گا۔گویا مسیح موعودؑ کے لئے دو نشان ہوں گے۔اوّل بیرونی نشان کہ حرب نہ ہوگی۔دوسرا اندرونی نشان کہ باہم مصالحت ہو جاوے گی۔پھر اس کے بعد فرمایا سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ۔سلمان یعنی دو۔صُلحیں اور پھر فرمایا عَلٰی مَشْـرَبِ الْـحَسَنِ یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ میں بھی دو ہی۔صُلحیں تھیں۔ایک صلح تو انہوںنے حضرت معاویہ کے ساتھ کر لی اور دوسری صحابہ کی باہم صلح کرا دی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعودؑ حَسْنِیُّ الْمَشْـرَب ہے۔اور حجج الکرامہ میں نواب صدیق حسن خان نے لکھا بھی ہے کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ مہدی حسنی ہو گا۔اس کے بعد فرمایا کہ حسن کا دودھ پیے گا۔یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ مہدی آپ کی آل میں سے ہو گا۔یہ مسئلہ اس الہام سے حل ہو گیا اور مسیح موعود کا جو مہدی بھی ہے کام بھی معلوم ہو گیا۔پس وہ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ آتے ہی تلوار چلائے گا اور کافروں کو قتل کرے گا جھوٹے ہیں۔اصل بات یہی ہے جو اس الہام میں بتلائی گئی ہے کہ وہ دو صُلحوں کا وارث ہو گا۔یعنی بیرونی طور پر بھی صلح کرے گا اور اندرونی طور پر بھی مصالحت ہی کرا دے گا اور آل کا لفظ اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آل چونکہ وارث ہوتی ہے اس لئے انبیاء علیہم السلام کے وارث یا آل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اِن کے علوم کے روحانی وارث ہوں۔اسی واسطے کہا گیا ہے کہ کُلُّ تَقِیٍّ وَّ نَقِیٍّ اٰلِیْ۔آیت مَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ کی تفسیر مولوی جمال الدین صاحب ساکن سید والہ نے قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر پوچھی۔مَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ (البقرۃ:۱۰۳) اس کے جواب میں حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ بعض نابکار قومیں حضرت سلیمان علیہ السلام کو بت پرست کہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان کی تردید کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف واقعات پر بحث کرتا ہے۔اور قرآن کل دنیا کی صداقتوں کا مجموعہ ہے۔اور سب دین کی کتابوں کا فخر ہے۔جیسے فرمایا ہے فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ اور يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً(البینۃ:۳،۴) پس قرآن کریم کے معنی کرتے وقت خارجی قصوں کو نہ لیں بلکہ واقعات کو مدّ ِنظر رکھنا چاہیے۔مثلاً قرآن کریم نے جو سورۃ فاتحہ کو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ (الفاتـحۃ:۲تا۴) اسماء سے شروع کیا تو اس میں کیا راز تھا۔چونکہ بعض قومیں اللہ تعالیٰ کی ہستی