ملفوظات (جلد 2) — Page 164
پاک دل بنے۔ریا کاری اور تعصّب سے اپنے دل کو صاف کرے اور جہاں سے صداقت اور حکمت کی بات ملے اس کو نہایت فراخدلی کے ساتھ قبول کرے۔میں ہر وقت سننے کوطیار ہوں۔اگر آپ صفائی سے جواب دیں کہ مسیح کے اس حواری کو اس وجہ سے شہزادہ نبی کہتے ہیں اور اگر آپ کوئی جواب نہ دیں اور جواب ہے بھی نہیں اور صرف اعتقادی طور پر بتائیں کہ ہم ایسا مانتے ہیں تو یہ ایسی بات ہے جیسے کسی ہندو سے پوچھیں کہ تم جو کہتے ہو کہ گنگا مہادیو کی جٹوںسے نکلتی ہے یا اس میں سَت ہے اوروہ اس کے جواب میں صرف یہی کہے کہ میں اس کے دلائل تو نہیں دے سکتا مگر ضروری مانتاہوں کہ اس میں سَت ہے تو یہ معقول بات نہ ہوگی۔غرض میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے نہ اعتقاد کے طور پر بلکہ تحقیقات سے ثابت کر لیا ہے کہ یہ قبر واقعی حضرت مسیحؑ ہی کی قبر ہے۔واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں تاریخ اس کی شہادت دیتی ہے۔جرمن میں ایسے مسیحی بھی ہیںجو اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت مسیحؑ صلیب پر نہیں مرے۔یہ بات بہت صاف ہے اور غور کرنے کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔انسان کا فرض سوال۔آپ کی سمجھ میں عیسائیوں کا فرض کیا ہے؟ جواب۔ہر ایک انسان کا فرض یہ ہونا چاہیے کہ حق کی تلاش کرے اور حق جہاں اسے ملے اس کو فوراً لے لے،عیسائیوں کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔اس کے بعد پادریو ں نے مکرر حضرت اقدس کا شکریہ ادا کیا اور پھر کتب خانہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اور دفتر اخبار الحکم سے کچھ کتابیں لیں اور واپس چلے گئے۔۱ دو الہامات ۱۸؍ اپریل ۱۹۰۱ ء کو آپ نے ایک الہام سنایا تھا۔؎ سال دیگر را کہ مے داند حساب تا کجا رفت آنکہ با ما بود یار ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ ؍ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱ تا ۳