ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 11

جو جامع ہوتمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرات کی۔اس لئے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا میں آدمؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک کے کل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ میں ہر قسم کی مضرتوں سے بچنے کی دعا ہے۔اسلام تلوار سے نہیں پھیلا پھر فرمایا کہ اسلام کی نسبت جو کہتے ہیں کہ تلوار سے پھیلا۔یہ بالکل غلط ہے۔اسلام نے تلوار اس وقت تک نہیں اٹھائی جب تک سامنے تلوار نہیں دیکھی۔قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ جس قسم کے ہتھیاروں سے دشمن اسلام پر حملہ کرے اسی قسم کے ہتھیار استعمال کرو۔مہدی کے لئے کہتے ہیں کہ آکرتلوار سے کام لے گا۔یہ صحیح نہیں۔اب تلوار کہاں ہے جو تلوار نکالی جاوے۔پھر افسوس تو یہ ہے کہ باوجود یکہ مسیح ان لوگوں کے مسلّمات کو تسلیم کرلے گا اور فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اترے گا مگر پھر بھی اس پر کفر کا فتویٰ دیا جائے گا۔جیسا کہ کتابوں سے ثا بت ہے بلکہ ایک شخص اٹھ کر کہہ دے گا اِنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ غَیَّرَ دِیْنَنَا۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جماعت کے لوگ ان دلائل سے باخبر ہوںتاکہ کسی محفل میں ان کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی اور یعقوب علی اور چند دوست ایسی کتابیں سوال و جواب کے طور پر تالیف کریں جو ہمارے مقاصد کو لئے ہوئے ہوں اور مدرسہ میں رائج کی جاویں۔۱ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء صبح کو حضرت اقدس علیہ السلام حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے راہ میں فرمانے لگے کہ کشف اور الہام کی درمیانی حالت بہت دفعہ ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک بات بتلاتے ہیں میں اس کو سنتا ہوں مگر آپ کی صورت نہیں دیکھتا ہوں۔غرض یہ اک حالت ہوتی ہے جو بین الکشف والالہام ہوتی ہے۔مسیح موعود کے دو نشان رات کو آپ نے مسیح موعود کے متعلق یہ فرمایا ہے۔یَضَعُ الْـحَرْبَ وَ یُصَا لِـحُ النَّاسَ یعنی ایک طرف تو جنگ وجدال ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۳