ملفوظات (جلد 2) — Page 163
بے شک یہ قبر کسی حواری کی قبر ہو گی۔اگر یہ ثابت نہ ہو اور ہرگز ہر گز ثابت نہ ہو گا تو پھر میری بات کو مان لو کہ اس قبر میں خود حضرت مسیحؑ ہی سوتے ہیں۔مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ بُرد باری کے ساتھ سنتے ہیں۔جو بُرد باری سے سنتا ہے وہ تحقیق کر سکتا ہے۔جس قدر باتیں آپ نے سنی ہیں دوسرے کم سنتے ہیں۔آپ خدا کے لئے غور کریں کہ جس حالت میں یہ قصہ مشترک ہو گیا ہے کہ وہ حواریوں میں سے تھا۔بہر حال تعلق تو مانا گیا اور پھر گرجا بنا دیا اور ہر سال میلہ ہونے لگا۔تو اب آپ بتائیں کہ یہ ثبوت کس کے ذمہ ہے؟اگر مسیحی تعلق نہ مان لیتے تو بار ثبوت بے شک میرے ذمہ ہوتا لیکن جب آپ لوگوں نے خود اس کو مان لیا ہے تو میں آپ سے ثبوت مانگتا ہوں کہ کسی ایسے حواری کا پتہ دیں جو شہزادہ نبی کہلایا ہو۔پادری صاحب۔ہم آپ کی مہربانی اور خاطر داری کے لئے بہت مشکور ہیں۔حضرت اقدسؑ۔یہ تو ہمارا فرض منصبی ہے جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہم کو بھیجا ہے اس کو کرنا ضروری ہے۔[حضرت اقدس حجۃ اللہ کی یہ تقریر سن کر مسٹر فضل نے (جو غالباً لاہور کی بک سوسائٹی میں ملازم ہیں) اپنی قابلیت کے اظہار کے لئے زبان کھولی،لیکن اس سے بہتر ہوتا کہ وہ خاموش رہتے اور ان کی دانش اور غور طلب طبیعت کا راز نہ کھلتا۔حضرت اقدس نے اس قدر طول طویل تقریر یوز آسف کے متعلق فرمائی اور اس کو تاریخی شہادتوں کے ساتھ مؤکد فرمایا مگر مسٹر فضل کے سوال پر نگاہ کی جائے کہ آپ کیا فرماتے ہیں] مسٹر فضل۔قبر کے متعلق کوئی تاریخی ثبوت ملا ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایاکہ گیارہ سو برس کی کتاب موجود ہے۔خود عیسائیوں میں اس کا گرجا موجود ہے۔وہاں میلہ ہوتا ہے اور ابھی آپ تاریخی ثبوت ہی پوچھتے ہیں۔یہ کیا ہے؟یہ تاریخی ثبوت نہیں تو کیا ہے؟ اور یہ بھی فرمایا کہ تم لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔صرف دھوکا دیناچاہتے ہو۔میں ہر ایک انسان کو یہی وصیت کرتا ہوں کہ وہ