ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 10

میں تو اور بھی زیادہ یہی پڑھنے کے قابل کتاب ہو گی جبکہ اور کتابیں بھی پڑھنے میں اس کے ساتھ شریک کی جائیں گی۔اس وقت اسلام کی عزّت بچانے کے لئے اور بطلان کا استیصال کرنے کے لئے یہی ایک کتاب پڑھنے کے قابل ہو گی اور دیگر کتابیں قطعاً چھوڑ دینے کے لائق ہوں گی۔فرقان کے بھی یہی معنے ہیں۔یعنی یہی ایک کتاب حق وباطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہو گی۔(فرمایا اور بڑے جوش اور تاکید سے فرمایا کہ ) اب سب کتابیں چھوڑ دو اور دن رات کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا رہے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبّر میں جان ودل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کردیں۔بڑے تأسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتنا اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔۱ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء خلقِ آدمؑ اور زُحل کی تاثیرات صبح کی سیر کے وقت حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔آدم عصر کے وقت چھٹے دن پیدا ہوا تھا۔اس وقت مشتری کا دورہ ختم ہو کر زُحل کا شروع ہونے والا تھا۔چونکہ زُحل کی تاثیرات خونریزی اور سفّاکی ہیں۔اس لئے ملائکہ نے اس خیال سے کہ یہ زُحل کی تاثیرات کے اندر پیدا ہو گا یہ کہا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا (البقرۃ:۳۱) اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس طرح انسان ارضی تاثیرات اور بوٹیوں کے خواص سے واقف ہوتا ہے اس طرح پر آسمانی مخلوق آسمانی تاثیرات سے باخبر ہو تی ہے۔بہترین دعا پھر فرمایا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں جہاں اَلرَّبُّ ، اَلرَّحْـمٰنُ ، اَلرَّحِیْمُ ، مَالِکِ یَـوْمِ الدِّیْنِ کے حسن و احسان کی طرف سے تحریک ہوتی ہے۔وہاں انسان کی عاجزی اور بے کسی بھی ساتھ ہی محرک ہوتی ہے اور وہ اِيَّاكَ نَسْتَعِیْنُ کہہ اٹھتا ہے۔دعا بہترین دعا وہ ہوتی ہے ۱ الحکم جلد ۴ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۵