ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 152

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۲ جلد دوم جو ہمارے لیے نہیں نکالی گئی مگر ہم ان ساری بد زبانیوں کو سنتے ہیں اور ان ساری تکلیفوں کے برداشت کرنے کو ہر وقت آمادہ ہیں۔ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ بناوٹ سے نہیں بلکہ ہمارا فرض ہے کہ سنیں کیونکہ جس مسند پر ہمیں بٹھایا گیا ہے اس پر بیٹھنے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے۔ کا لو غرض اس سلسلہ کو قائم ہوئے پچیس سے زیادہ سال گزر گئے۔ یہ ایک بڑا مسیح موعود کا کام حصہ زندگی کا ہے۔ اس عرصہ میں ایک بچہ پیدا ہوکر بھی صاحب اولاد ہو سکتا ہے۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے عین وقت پر ہماری دستگیری کی اور مخلوق پر رحم فرمایا۔ چونکہ خود اس نے ایک غیر معمولی ہمت اور استقلال ہم کو دیا ہے جو اپنے ماموروں کو ہمیشہ دیا کرتا ہے اسی لئے اسی قوت ت اور طاقت کی وجہ سے ہم نہیں تھکتے اور یہ ساری مخالفتیں جو اس وقت کی جاتی ہیں ایک وقت آتا ہے کہ ان کا نام و نشان مٹ جاوے گا اور ہم امیدوار ہیں کہ وہ زمانہ آنے والا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس وقت آسمان باتیں کر رہا ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ زمین کے رہنے والوں میں ایک پاک تبدیلی ہو۔ جس طرح سے ہر ایک بادشاہ طبعاً چاہتا ہے کہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ اسی طرح منشاء الہی اس وقت یونہی ہو رہا ہے کہ اس عظمت و جبروت کا اہلِ دنیا کو علم ہو اور وہ خدا جو پوشیدہ ہو رہا ہے دنیا پر اپنا ظہور دکھائے اس لئے اس نے اپنا ایک مامور بھیجا ہے تا کہ دنیا کا جذام جاتا رہے۔ اگر یہ سوال ہو کہ تم نے آکر کیا بنایا۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ دنیا کو خود معلوم ہو جاوے گا کہ کیا بنایا۔ ہاں۔ اتنا ہم ضرور کہتے ہیں کہ لوگ آکر ہمارے پاس گناہوں سے تو بہ کرتے ہیں۔ ان میں انکسار فروتنی پیدا ہوتی ہے اور رذائل دور ہو کر اخلاق فاضلہ آنے لگتے ہیں اور سبزہ کی طرح آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور اپنے اخلاق اور عادات میں ترقی کرنے لگتے ہیں۔ انسان ایک دم میں ہی ترقی نہیں کر لیتا بلکہ دنیا میں قانون قدرت یہی ہے کہ ہر شے تدریجی طور پر ترقی کرتی ہے اس سلسلہ سے با ہر کوئی شے ہو نہیں سکتی۔ ہاں ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ آخر سچائی پھیلے گی اور پاک تبدیلی ہوگی۔ یہ میرا کام نہیں ہے بلکہ خدا کا کام ہے۔ اس نے ارادہ کیا ہے کہ پاکیزگی پھیلے۔ دنیا کی حالت مسخ ہو چکی ہے اور الحکم جلد ۵ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ مئی ۱۹۰۱ صفحه ۱ تا ۴