ملفوظات (جلد 2) — Page 151
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۱ جلد دوم ہرگز معلوم نہیں کہ یہ بدی کا زہر ہلاک کرنے میں سنکھیا یا سٹر کنیا کے زہر سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگر ان کا ایمان اس بات پر ہوتا کہ خدا ہے اور وہ بدی سے ناراض ہوتا ہے اور اس کی پاداش میں سخت سزاملتی ہے تو گناہ سے بے زاری ظاہر کرتے اور بدیوں سے ہٹ جاتے۔ لیکن چونکہ گناہ کی زندگی عام ہوتی جاتی ہے اور بدی اور فسق و فجور سے نفرت کی بجائے محبت بڑھتی جاتی ہے اس لئے میں یہی کہوں گا اور یہی سچ ہے کہ آجکل دہر یہ مت پھیلا ہوا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک گروہ زبان سے کہتا ہے کہ خدا ہے مگر مانتا نہیں اور دوسرا گر وہ صاف انکار کرتا ہے۔ حقیقت میں دونوں ملے ہوئے ہیں ۔ آمد کا مقصد اس لئے میں خدا تعالیٰ پر ایسا ایمان پیدا کرانا چاہتا ہوں کہ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاوے وہ گناہ کے زہر سے بچ جاوے اور اس کی فطرت اور سرشت میں ایک تبدیلی ہو جاوے۔ اس پر موت وارد ہو کر ایک نئی زندگی اس کو ملے ۔ گناہ سے لذت پانے کی بجائے اس کے دل میں نفرت پیدا ہو۔ جس کی یہ صورت ہو جاوے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے خدا کو پہچان لیا ہے۔ خدا خوب جانتا ہے کہ اس زمانہ میں یہی حالت ہو رہی ہے کہ خدا کی معرفت نہیں رہی ۔ کوئی مذہب ایسا نہیں رہا جو اس منزل پر انسان کو پہنچاوے اور یہ فطرت اس میں پیدا کرے۔ ہم کسی خاص مذہب پر کوئی افسوس نہیں کر سکتے ۔ یہ بلا عام ہو رہی ہے اور یہ وبا خطر ناک طور پر پھیلی ہے۔ میں سچ کہتا ہوں خدا پر ایمان لانے سے انسان فرشتہ بن جاتا ہے بلکہ ملائکہ کا مسجود ہوتا ہے۔ نورانی ہو جاتا ہے۔ غرض جب اس قسم کا زمانہ دنیا پر آتا ہے کہ خدا کی معرفت باقی نہیں رہتی اور تباہ کاری اور ہر قسم کی بدکاریاں کثرت سے پھیل جاتی ہیں۔ خدا کا خوف اٹھ جاتا ہے اور خدا کے حقوق بندوں کو دیئے جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ اسی حالت میں ایک انسان کو اپنی معرفت کا نور دے کر مامور فرماتا ہے۔ اس پر کا لعن طعن ہوتا ہے اور ہر طرح سے اس کو ستایا جاتا اور دکھ دیا جاتا ہے لیکن آخر وہ خدا کا مامور کامیاب ہو جاتا اور دنیا میں سچائی کا نور پھیلا دیتا ہے۔ اسی طرح اس زمانہ میں خدا نے مجھے مامور کیا اور اپنی معرفت کا نور مجھے بخشا ۔ کوئی گالی نہیں جو ہم کو نہیں دی گئی ۔ کوئی صورت ایذا رسانی کی نہیں