ملفوظات (جلد 2) — Page 150
زبان سے دعویٰ کرنا کہ میں نجات پا گیا ہوں یا خدا تعالیٰ سے قوی رشتہ پیدا ہو گیا ہے آسان ہے لیکن خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ وہ کہاں تک ان تمام باتوں سے الگ ہو گیا ہے جن سے الگ ہونا ضروری ہے۔یہ سچی بات ہے کہ جو ڈھونڈتا ہے وہ پا لیتا ہے۔سچے دل سے قدم رکھنے والے کامیاب ہو جاتے ہیں اور منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں۔جب انسان کچھ دین کا اور کچھ دنیا کا ہوتا ہے آخرکار دین سے الگ ہو کر دنیا ہی کا ہو جاتا ہے۔اگر انسان ربّانی نظر سے مذہب کو تلاش کرے تو تفرقہ کا فیصلہ بہت جلد ہو جاوے۔مگر نہیں۔یہاں مقصود اور غرض یہ ہوتی ہے کہ میری بات رہ جاوے۔دو آدمی اگر بات کرتے ہیں تو ہر ایک ان میں سے یہی چاہتا ہے کہ دوسرے کو گرا دے۔اس وقت تو چیونٹی کی طرح تعصّب، ہٹ دھرمی اور ضد کی بلائیں لگی ہوئی ہیں۔غرض میں آپ کو کہاں تک سمجھاؤں بات بہت باریک ہے اور دنیا اس سے بے خبر ہے اور یہ صرف خدا ہی کے اختیار میں ہے۔اس زمانہ میں دہریت کا زور میرا مذہب یہ ہے کہ وہ خدا جس کو ہم دکھانا چاہتے ہیں وہ دنیا کی نظروں سے پو شیدہ ہے اور دنیا اس سے غافل ہے۔اس نے مجھ پر اپنا جلوہ دکھایا ہے۔جو دیکھنے کی آنکھ رکھتا ہو دیکھے۔دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو خد اکو مانتے ہیں اور دوسرے وہ جو نہیں مانتے اور دہریہ کہلاتے ہیں۔جو مانتے ہیں ان میں بھی دہریت کی ایک رگ ہے کیونکہ اگر وہ خدا کو کامل یقین کے ساتھ مانتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس قدرفسق وفجور اور بے حیائی میں ترقی ہو رہی ہے۔ایک انسان کو مثلاً سنکھیایا سٹرکنیا دیا جاوے جبکہ اس کو اس بات کا علم ہے کہ یہ زہر قاتل ہے تو وہ اس کو کبھی نہیں کھائے گا خواہ اس کے ساتھ تم اسے کس قدر بھی لالچ روپیہ کا دو۔اس لئے کہ اس کو اس بات کا یقین ہے کہ میں نے اس کو کھایا اور ہلاک ہوا۔پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ گناہ سے ناراض ہوتا ہے اور پھر بھی اس زہر کے پیالے کو پی لیتے ہیں،جھوٹ بولتے ہیں،زنا کرتے ہیں،دکھ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں،بارہ بارہ آنہ یا ایک روپیہ کے زیور پر معصوم بچوں کو مار ڈالتے ہیں۔اس قدر بے باکی اور شرارت و شوخی کا پیدا ہونا سچے علم اور پورے یقین کے بعد تو ممکن نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کو یہ