ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 149

نور کے لئے بھوکی پیاسی ہوتی ہے۔غرض عمدہ تعلیم اور کامل نمونہ جو اس تعلیم کی عمدگی کا زندہ ثبوت ہوتا ہے وہی اشاعت کا بہترین طریق ہے۔روحانی زندگی پانے کا طریق سوال۔ہم آپ کو بہت تکلیف دینا نہیں چاہتے۔یہ روحانی زندگی کس طرح مل سکتی ہے؟ جواب۔خدا کے فضل سے۔سوال۔ہمیں کچھ کہناچاہیے کہ روحانی زندگی ہم کو مل جاوے؟ جواب۔ہاں۔دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ہی نیک صحبت میں رہنا چاہیے۔سب تعصبوں کو چھوڑ کر گویا دنیا سے الگ ہو جاوے۔جیسے جہاں طاعون پڑی ہوئی ہو اور کوئی شخص وہاں سے الگ نہیں ہوتا ہے تو وہ خطرہ کی حالت میں ہے۔اسی طرح جو شخص اپنی حالت کو بدل نہیں ڈالتا اور اپنی زمین میں تبدیلی نہیں کرتا اور الگ ہو کر نہیں سوچتا کہ کس طرح پاک زندگی پاؤں اور خدا سے دعا نہیں مانگتا وہ خطرہ کی حالت میں ہے۔دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دعا کی تعلیم نہیں دی۔یہ دعا ایک ایسی شے ہے جو عبودیت اور ربوبیت میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے۔اس راہ میں قدم رکھنا بھی مشکل ہے لیکن جو قدم رکھتا ہے پھر دعا ایک ایسا ذریعہ ہے کہ ان مشکلات کو آسان اور سہل کر دیتا ہے۔دعا کا ایک ایسا باریک مضمون ہے کہ اس کا ادا کرنا بھی بہت ہی مشکل ہے۔جب تک خود انسان دعا اور اس کی کیفیتوں کا تجربہ کار نہ ہو ،وہ اس کو بیان نہیں کر سکتا۔غرض جب انسان خدا تعالیٰ سے متواتر دعا ئیں مانگتا ہے تو وہ اور ہی انسان ہو جاتا ہے۔اس کی روحانی کدورتیں دور ہو کر اس کو ایک قسم کی راحت اور سرور ملتا ہے اور ہر قسم کے تعصّب اور ریا کاری سے الگ ہو کر وہ تمام مشکلات کو جو اس کی راہ میںپیدا ہوںبرداشت کر لیتا ہے۔خدا کے لئے ان سختیوں کو جو دوسرے برداشت نہیں کرتے اور نہیں کر سکتے صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ راضی ہو جاوے برداشت کرتا ہے۔تب خدا تعالیٰ جو رحمٰن رحیم خدا ہے اور سراسر رحمت ہے اس پر نظر کرتا ہے اور اس کی ساری کلفتوں اور کدورتوں کو سرور سے بدل دیتا ہے۔