ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 133

مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ( الزلزال :۸)۔یادرکھو خدا کی توفیق کے بغیر دین کی خدمت نہیں ہوسکتی۔جوشخص دین کی خدمت کے واسطے شرح صدر سے اُٹھتا ہے خدا اس کو ضائع نہیں کرتا۔غرض خلاصہ یہ ہے کہ ایک پہلو تو میں کررہا ہوں دوسرے پہلو کو ہماری انگریزی خواں جماعت نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔انہوں نے یہ تجویز کی ہے کہ تجارت کے طریق پر یہ کام جاری ہوجائے۔دین کی اشاعت ہوجائے گی اور اُن کا کوئی حَرج نہ ہوگا۔اُمید ہے کہ خدا اس کا اَجر دے گا۔مَیںیہ صرف اپنی جماعت کے ارادوں کا ترجمہ کرتا ہوں۔میرا منشا تو اسی حد تک ہے کہ کسی طرح عرب اور دوسرے ملکوںمیں تبلیغ ہوجائے۔یہ اُنہوں نے اپنی دانست میں اَسہل طریق مقرر کیا ہے جس کو تجارتی طریق پر سمجھ لیا جائے۔تجارت کے اُمورظَنِّ غالب ہی پر چلتے ہیں۔بہرحال یہ اُن کا ارادہ ہے۔میرے نزدیک جہاں تک یہ امر مذہب سے تعلق رکھتا ہے تو مَیں اس کی حمایت کرتا ہوں۔اگر یہ تجویز عمل میں نہ بھی آئے تب بھی یہ کام تو ہوجائے گا۔بہر حال آپ غور کرلیں۔اللہ تعالیٰ کو بہتر معلوم ہے۔۱ یکم اپریل ۱۹۰۱ء معرفت اور بصیرت اکثر لوگوں کے خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے ہم سے یہ سوال کیا اور ہم اس کا جواب نہ دے سکے۔ایسی حالت میں انسان کچھ مذبذب اور کمزور ہو جاتا ہے۔یادرکھو آئے دن وساوس میں پڑنا ناقص معرفت کا نتیجہ ہوتا ہے۔معرفت اور بصیرت تو ایسی شے ہے کہ انسان فرشتوں سے مصافحہ کرلیتا ہے۔مَیں سچ کہتا ہوں کہ معرفت جیسی کوئی طاقت نہیں ہے۔پرندے کہاں تک اُڑ کر جاتے ہیں لیکن معرفت والا انسان اُن سے بھی آگے نکل جاتا ہے اور بہت دورپہنچ جاتا ہے۔پس اصل مدعا یہی ہے کہ ہمیں وہ یقین حاصل کرنا چاہیے جو اطمینان کے درجہ پر پہنچادیتا ہے۔بدُوں اس کے انسان بالکل ادھورااور ناقص ہے اور اس کی ترقی ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ ؍ اپریل ۱۹۰۱ءصفحہ ۵ تا ۸