ملفوظات (جلد 2) — Page 132
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۲ جلد دوم عبادت کیا ہے۔ جب انتہا درجہ کی محبت کرتا ہے۔ جب انتہا درجہ کی اُمید ہو۔ انتہا درجہ کا خوف ہو۔ یہ سب عبادت میں داخل ہے۔ غیر اللہ کی عبادت کا اتنا ہی مفہوم نہیں ہے کہ سجدہ نہ کیا جاوے۔ نہیں ۔ بلکہ اُس کے مختلف مدارج ہیں ۔ اگر کوئی مال سے انتہا درجہ کی محبت کرتا ہے تو وہ اس کا بندہ ہوتا ہے۔ خدا کا بندہ وہ ہے جو خدا کے سوا اور چیزوں کی حد اعتدال تک رعایت کرتا ہے۔ اسلام میں محبت ، امید منع نہیں ہے مگر ایک حد تک ۔ ا اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمادیا ہے کہ جو خدا سے محبت کرتے ہیں اُسی سے ڈرتے اسی سے اُمید رکھتے ہیں وہ ایک سلطان رکھتے ہیں لیکن جو نفس کے تابع ہوتے ہیں ان کے پاس کوئی سلطان نہیں ہے جو محکم طور پر دل کو پکڑے ۔ غرض انسان کا کوئی فعل اور قول ہو جب تک وہ خدا کی سلطان کا پیرو نہ ہو شرک کرتا ہے۔ پس ہم جو اپنی اس کارروائی کی دوطور پر اشاعت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی شاہد نہیں ہو سکتا کہ کس قدر سچے جوش اور خالصتا للہ اس کو پیش کرتے ہیں۔ ہمیں اتفاق نہیں ہوا کہ انگریزی میں لکھ پڑھ سکتے ۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم کبھی بھی اپنے دوستوں کو تکلیف نہ دیتے مگر اس میں مصلحت یہ تھی کہ تا دوسروں کو ثواب کے لیے بلائیں ورنہ میری طبیعت تو ایسی واقع ہوئی ہے کہ جو کام میں خود کر سکتا ہوں اُس کے لئے کسی دوسرے کو کبھی کہتا ہی نہیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور چار برس زندگی پاتے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو جاتے ۔ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ فتح عظیم جس کا آپ کے ساتھ وعدہ تھا حاصل کر چکے تھے۔ رَأَيْتَ النَّاس يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ( النصر : (٣) دیکھ چکے تھے۔ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمُ (المائدۃ: ۴) ہو چکا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اُن کو محروم رکھے بلکہ یہی چاہا کہ اُن کو بھی ثواب میں داخل کر دے۔ اسی طرح پر اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم کو اس قدر خزانے دے دیتا کہ ہم کو پروا بھی نہ رہتی مگر خدا ثواب میں داخل کرتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔ یہ سب جو بیٹھے ہیں یہ قبریں ہی سمجھو کیونکہ آخر مرنا ہے۔ پس ثواب حاصل کرنے کا وقت ہے۔ میں ان باتوں کو جو خدا نے میرے دل پر ڈالی ہیں سادہ اور صاف الفاظ میں ڈالنا چاہتا ہوں ۔ اس وقت ثواب کے لیے مستعد ہو جاؤ اور یہ بھی مت سمجھو کہ اگر اس راہ میں خرچ کریں گے تو کچھ کم ہو جاوے گا۔ خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح سب کمیاں پر ہو جائیں گی مَنْ يَعْمَلُ