ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 132

عبادت کیا ہے۔جب انتہادرجہ کی محبت کرتاہے۔جب انتہادرجہ کی اُمید ہو۔انتہادرجہ کا خوف ہو۔یہ سب عبادت میں داخل ہے۔غیر اللہ کی عبادت کا اتنا ہی مفہوم نہیں ہے کہ سجدہ نہ کیا جاوے۔نہیں۔بلکہ اُس کے مختلف مدارج ہیں۔اگر کوئی مال سے انتہا درجہ کی محبت کرتا ہے تو وہ اس کا بندہ ہوتا ہے۔خدا کابندہ وہ ہے جو خدا کے سوا اور چیزوں کی حدِ اعتدال تک رعایت کرتا ہے۔اسلام میں محبت، اُمید منع نہیں ہے مگر ایک حد تک۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ جو خدا سے محبت کرتے ہیں اُسی سے ڈرتے اسی سے اُمید رکھتے ہیں وہ ایک سلطان رکھتے ہیں لیکن جو نفس کے تابع ہوتے ہیں ان کے پاس کوئی سلطان نہیں ہے جو محکم طور پر دل کو پکڑے۔غرض انسان کا کوئی فعل اور قول ہو جب تک وہ خدا کی سلطان کا پیرو نہ ہو شرک کرتا ہے۔پس ہم جو اپنی اس کارروائی کی دو طور پر اشاعت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اوراس سے بڑھ کر کوئی شاہد نہیں ہوسکتا کہ کس قدر سچے جوش اور خالصتاً للّٰہ اس کو پیش کرتے ہیں۔ہمیں اتفاق نہیں ہوا کہ انگریزی میں لکھ پڑھ سکتے۔اگر ایساہوتاتو ہم کبھی بھی اپنے دوستوں کو تکلیف نہ دیتے مگر اس میں مصلحت یہ تھی کہ تادوسروں کو ثواب کے لیے بلائیں ورنہ میری طبیعت تو ایسی واقع ہوئی ہے کہ جو کام مَیں خود کر سکتا ہوں اُس کے لئے کسی دوسرے کو کبھی کہتا ہی نہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور چار برس زندگی پاتے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو جاتے۔دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ فتح عظیم جس کا آپؐ کے ساتھ وعدہ تھا حاصل کرچکے تھے۔رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا( النّصـر :۳) دیکھ چکے تھے۔اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ (المائدۃ:۴) ہوچکا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اُن کو محروم رکھے بلکہ یہی چاہا کہ اُن کو بھی ثواب میں داخل کردے۔اسی طرح پر اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم کو اس قدر خزانے دے دیتا کہ ہم کو پروا بھی نہ رہتی مگر خدا ثواب میں داخل کرتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے۔یہ سب جو بیٹھے ہیں یہ قبریں ہی سمجھو کیونکہ آخرمرنا ہے۔پس ثواب حاصل کرنے کا وقت ہے۔میں ان باتوں کو جوخدا نے میرے دل پر ڈالی ہیں سادہ اورصاف الفاظ میں ڈالنا چاہتا ہوں۔اس وقت ثواب کے لیے مستعد ہو جاؤ اور یہ بھی مت سمجھو کہ اگر اس راہ میں خرچ کریں گے تو کچھ کم ہوجاوے گا۔خدا تعالیٰ کی بارش کی طرح سب کمیاں پُر ہوجائیں گی مَنْ يَّعْمَل