ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 127

۳۱؍ مارچ ۱۹۰۱ ء تقریرحضرت اقدسؑ بعثت مُرسلین کے متعلق خدا تعالیٰ کی ازلی سنّت سب صاحب اس بات کو سُن لیں کہ چونکہ ہماری یہ سب کارروائی خدا ہی کے لیے ہے۔وہ اس غفلت کے زمانہ میں اپنی حجت پوری کرنی چاہتا ہے جیسے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں ہوتا رہا ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ زمین پر تاریکی پھیل گئی ہے تو وہ تقاضا کرتا ہے کہ لوگوں کو سمجھاوے اور قانون کے موافق حجت پوری کرے۔اس لیے زمانہ میں جب حالات بدل جاتے ہیں اور خدا سے تعلق نہیں رہتا۔سمجھ کم ہوجاتی ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو مامور کردیتاہے تاکہ غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو سمجھائے اور یہی بڑا نشان اس کے مامور ہونے پر ہوتا ہے کہ وہ لغو طور پر نہیں آتا ہے بلکہ تمام ضرورتیں اس کے وجود پر شہادت دیتی ہیں۔جیسے ہمارے پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔اعتقادی اورعملی حالت بالکل خراب ہوگئی تھی اور نہ صرف عرب کی بلکہ کل دنیا کی حالت بگڑ چکی تھی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الرّوم:۴۲) اس فساد عظیم کے وقت خدا تعالیٰ نے اپنے کامل اور پاک بندہ کو مامور کرکے بھیجا جس کے سبب سے تھوڑی ہی مدت میں ایک عجیب تبدیلی واقع ہوگئی۔مخلوق پرستی کی بجائے خدا تعالیٰ پوجا گیا۔بداعمالیوں کی بجائے اعمالِ صالحہ نظر آنے لگے۔ایسا ہی اس زمانہ میں بھی دنیا کی اعتقادی اور عملی حالت بگڑ گئی ہے اور اندرونی اور بیرونی حالت انتہا تک خطرناک ہوگئی ہے۔اندرونی حالت ایسی خراب ہوگئی ہے کہ قرآن تو پڑھتے ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ کیا پڑھتے ہیں۔اعتقاد بھی کتاب اللہ کے برخلاف ہوگئے ہیں اور اعمال بھی۔مولوی بھی قرآن کو پڑھتے ہیں اور عوام بھی مگر تدبرنہ کرنے میں دونوں برابر ہیں۔اگر غور کرتے تو بات کیسی صاف تھی۔