ملفوظات (جلد 2) — Page 126
جب انسان وفاداری اختیار کرے گا تو سُرور لازمی طور پر اس کو حاصل ہوجائے گا۔جیسا کہ کھانا آتا ہے تو دستر خوان بھی ساتھ آجاتاہے۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ کاملوں میں بھی بعض قبض کے وقت آجاتے ہیں کیونکہ قبض کے وقت انسان کو سرور کی قدر زیادہ ہوتی ہے اور اس کو زیادہ لذّت حاصل ہوتی ہے۔دوسرے کے متعلق رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کی جائے فرمایا۔انسان دوسرے شخص کےدل کی ماہیت معلوم نہیں کرسکتا اور اس کے قلب کے مخفی گوشوں تک اس کی نظر نہیں پہنچ سکتی اس لیے دوسرے شخص کی نسبت جلدی سے کوئی رائے نہ لگائے بلکہ صبر سے انتظار کرے۔ایک شخص کا ذکر ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ سے عہدکیا کہ میں سب کو اپنے سے بہترسمجھوں گا اور کسی کو اپنے سے کمتر خیال نہیں کروں گا۔اپنے محبوب کو راضی کرنے کے لئے انسان ایسی تجویزیں سوچتے رہتے ہیں۔ایک دن اس نے ایک دریا کے پل کے پاس جہاں سے بہت آدمی گزر رہے تھے ایک شخص بیٹھا ہوا دیکھا اور اس کے پہلو میں ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ایک بوتل اس شخص کے ہاتھ میں تھی۔آپ پیتا تھا اور اُس عورت کو بھی پلاتا تھا۔اُس نے اس پر بدظنی کی اور خیال کیا کہ میں اس بے حیا سے تو ضرور بہترہوں۔اتنے میں ایک کشتی آئی مع سواریوں کے ڈوب گئی۔وہی شخص جو عورت کے پاس بیٹھا تھا، دریا میں سے سوائے ایک کے سب کو نکال لایا اور اس بدظن سے کہا تُو مجھ پر بدظنی کرتا تھا۔سب کو میں نکال لایا ہوں، ایک کو تو نکال لا۔خدا نے مجھے تیرے امتحان کے لئے بھیجا تھا اور تیرے دل کے ارادہ سے مجھے اطلاع دی۔یہ عورت میری والدہ ہے اوربوتل میں شراب نہیں دریا کا پانی ہے۔غرض انسان دوسرے کی نسبت جلد رائے نہ لگائے۔۱ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۴ ، ۱۵