ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 125

۲۱؍ مارچ ۱۹۰۱ء وجدو سرور کا روحانیت سے تعلق نہیں فرمایا۔بعض انسانوں کو دیکھو گے کہ کافیاں اورشعر سن کر وجد وطرب میں آجاتے ہیں مگر جب مثلاً ان کو کسی شہادت کے لئے بلایا جائے تو عذر کریں گے کہ ہمیں معاف رکھو۔ہمیں تو فریقین سے تعلق ہے۔ہمیں اس معاملہ میں داخل نہ کرو۔پس سچائی کا اظہار نہ کریں گے۔ایسے لوگوں کے وجد و سُرور سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔جب کسی ابتلا میں آجاتے ہیں تو اپنی صداقت کا ثبوت نہیں دے سکتے اُن کا سُرور و وجد قابلِ تعریف نہیں۔یہ سُرور و وجد ایک عارضی چیز اور طبعی امر ہے۔بعض منکرین اسلام جن کو تمام پاک بازوں سے دلی عداوت ہے وہ بھی اس سُرور سے حصہ لیتے ہیں۔ایک متعصّب ہندو مثنوی مولوی رُومی رحمۃ اللہ علیہ پڑھ کر سرور حاصل کرتا تھا حالانکہ وہ دشمنِ اسلام تھا۔کیا تم سانپ کو پاک باز مانو گے جو بانسری سن کر سرور میں آجاتا ہے یا اُونٹ کو خدا رسیدہ قراردوگے جو خوش الحانی سے نشہ میں آجاتا ہے۔سچائی کا کمال جس سے خدا خوش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنی وفاداری دکھائے۔ایسے انسان کا تھوڑا عمل بھی دوسرے کے بہت عمل سے بہتر ہے مثلاً ایک شخص کے دو نوکر ہیں۔ایک نوکر دن میں کئی دفعہ اپنے مالک کی خدمت میں آکر سلام کرتا ہے اور ہر وقت اس کے گرد و پیش رہتا ہے۔دوسرا اس کے پاس بہت کم آتا ہے مگر مالک پہلے کو بہت قلیل تنخواہ دیتا ہے اور دوسرے کو بہت زیادہ۔اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ دوسرا ضرورت کے وقت اُس پر جان بھی دینے کے لئے طیار ہے اور وفادار ہے اور پہلا کسی کے بہکانے سے مجھے قتل کرنے پر بھی آمادہ ہوجائے گا یا کم از کم مجھے چھوڑ کر کسی دوسرے کی ملازمت اختیار کرلے گا۔اسی طرح اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ سے وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا مگر پنج وقتہ نماز ادا کرتا ہے اور اشراق تک بھی پڑھتا ہے بلکہ کئی ایک اَور اَوراد بھی تجویز کئے ہوئے ہیں تووہ خدا تعالیٰ کی نظر میں ایک وفادار انسان سے کوئی نسبت نہیں رکھتا کیونکہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ابتلا کے وقت وفاداری نہیں دکھلائے گا۔