ملفوظات (جلد 2) — Page 124
۱۰؍ مارچ ۱۹۰۱ء مشکلات کا واحد حل ایک شخص نے اپنی بعض مشکلات کے حل کے واسطے دعا کے لئے عرض کی۔فرمایا۔دعا کریں گے۔وہ شخص اپنے کاموں میں شاید کسی اور پر بھروسہ رکھتا تھا۔اس پر فرمایا۔انسان پر کبھی بھروسہ نہ کرو صرف خد اپر بھروسہ کرو۔جب انسان پر بھروسہ کروگے تب ہی خالی رہو گے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔اسلام یہی ہے کہ صرف خدا کے لئے ہو جاؤ۔پھر ساری مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کا جلال اسی طرح ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا سے شرک کو دور کیا جائے کیونکہ شرک ایسا گناہ ہے جس کی نسبت خدا نے کہا ہے کہ یہ بخشا نہیں جائے گا۔اس وقت بڑا شرک یہی ہے کہ مسیحؑ کو خدابنایا جاتا ہے۔سورۂ اخلاص میں فتنہ نصاریٰ کاردّ فرمایا۔چونکہ نصاریٰ کا فتنہ سب سے بڑا ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک سورہ قرآن شریف کی تو ساری کی ساری صرف ان کے متعلق خاص کردی ہے یعنی سورہ اخلاص۔اور کوئی سورہ ساری کی ساری کسی قوم کے واسطے خاص نہیں ہے۔اَحَد خدا کا اسم ہے اور اَحَد کا مفہوم واحد سے بڑھ کر ہے۔صمد کے معنی ہیں ازل سے غنی بالذات جو بالکل محتاج نہ ہو۔اقنومِ ثلاثہ کے ماننے سے وہ محتاج پڑتا ہے۔۱ ۱۱؍مارچ ۱۹۰۱ء فرمایا۔ساری خوشیاں ایمان کے ساتھ ہیں۔۲ ۱ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۹ ۲ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۰