ملفوظات (جلد 2) — Page 119
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۹ جلد دوم لذت روحانی فیصلہ نہیں کر سکتی ہے۔ کوئی کسی عورت پر عاشق ہو جاتا ہے اور اپنے فسق ہی میں اُس کے ہجر کے شعر بنا بنا کر خوش ہوتا ہے اور روتا ہے۔ انسان کے اندر ایک طاقت ہے خواہ اُس کو محل پر استعمال کرے یا بے محل ۔ پس اس طاقت پر ہی بھروسہ کر کے نہ بیٹھ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت اس لیے رکھی ہے کہ سچے سائل محروم نہ ہوں اور جب یہ برمحل استعمال ہو تو ان کے لئے آنے والے روحانی مدارج کا ایک مقدمہ ہو اور یہ قویٰ کا کام دے۔ غرض یہ امور کہ کبھی رو پڑنا اور کبھی دنیا کی دوسری چیزوں اور تعلقات سے انقطاع کرنا یہ عارضی ہوتے ہیں اُن پر اعتبار کر کے بے دست و پا نہ بنے ۔ وہ امور جن پر سچی معرفت کی بنا ہے یہ ہیں کہ وہ خدا کی راہ میں اگر بار بار سچی معرفت کی بنیاد آزمایا جائے اور مصائب اور مشکلات کے دریا میں ڈالا جائے ۔ تب بھی ہرگز نہ گھبرائے اور قدم آگے ہی بڑھائے ۔ اس کے بعد اُس کی معرفت کا انکشاف ہوتا ہے اور یہی سچی نعمت حقیقی راحت ہوتی ہے۔ اس وقت دل میں ایک رفت پیدا ہوتی ہے مگر یہ رقت عارضی نہیں ہوتی بلکہ ضرور اور لذت سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ رُوح پانی کے ایک مصفی چشمہ کی طرح خدا کی طرف بہتی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ سمندر کے پہلے ایک سراب آتا ہے وہ بھی سمندر ہی نظر آتا ہے۔ جو سراب کو دھوکا سمجھ کر آگے چلنے سے رہ جاتا اور مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے وہ نا کام اور نامراد رہتا ہے لیکن جو ہمت نہیں ہارتا اور قدم آگے بڑھاتا ہے وہ منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے مختلف کیفیتیں انسانی روح کے اندر رکھی ہوئی ہیں ۔ اُن میں سے اس رقت کی بھی ایک کیفیت ہے۔ کوئی فقط شعر خوانی یا خوش الحانی ہی سے متاثر ہو جاتا ہے۔ کوئی آگے چلتا ہے اور ان پر قانع نہ ہو کر صبر کے ساتھ اصل مرحلہ تک پہنچتا ہے۔ یہ یا درکھو کہ سچائی کے طالب کے واسطے یہ شرط ہے کہ جہاں سے اسے سچائی ملے لے لے۔ یہ ایک نور ہے جو اس کی رہبری کرتا ہے۔ اس وقت دنیا میں ایک کشاکش شروع ہے۔ آریہ اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں ۔ برہموا لگ جلاتے ہیں ۔ دیو سماج والے اپنی ہی طرف دعوت کرتے ہیں ۔ عیسائی ہیں وہ عیسائیت ہی کو پیش کرتے ہیں ۔ غرض ہر قوم اپنی