ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 115

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۵ جلد دوم کیونکہ وہ قسم قسم کی ظلمتوں اور تاریکیوں اور راستہ کی مشکلات میں پھنسا ہوا ہوتا ہے لیکن جب اس کی روشنی اس پر چمکتی ہے تو اس کا دل و دماغ روشن ہو جاتا ہے اور وہ نور سے معمور ہو کر برق کی رفتار سے خدا کی طرف چلتا ہے۔ حق جو حضور میں مذہب کا پابند نہیں ہوں ۔ حضرت اقدس ۔ اگر کوئی اپنی جگہ یہ فیصلہ کر کے آوے کہ میں نے کچھ ماننا ہی نہیں تو اس کو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے اور کہیں بھی کیا۔ لیکن اگر کوئی عقل رکھتا ہے تو اضطرارا اس کو ایک راہ پیدا کرنی پڑتی ہے۔ مذہب کیا ہے؟ وہی راہ ہے جس کو وہ اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ مذہب تو ہر مذہب کیا ہے؟ شخص کو رکھنا پڑتا ہے لا مذہب انسان جو خدا کو نہیں مانتا اسکو بھی ایک راہ اختیار کرنی لازمی ہے اور وہی مذہب ہے۔ مگر ہاں امر غور طلب یہ ہونا چاہیے کہ جس راہ کو اختیار کیا ہے، کیا وہ راہ وہی ہے جس پر چل کر اس کو سچی استقامت اور دائمی راحت اور خوشی اور ختم نہ ہونے والا اطمینان مل سکتا ہے؟ دیکھو! مذہب تو ایک عام لفظ ہے۔ اس کے معنے چلنے کی جگہ یعنی راہ کے ہیں اور یہ دین کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ں ہے۔ ہر قسم کے علوم و فنون طبقات الارض طبعی ، طبابت ، ہیئت وغیرہ میں بھی ان علوم کے ماہرین کا ایک مذہب ہوتا ہے۔ اس سے کسی کو چارہ ہو سکتا ہی نہیں ۔ یہ تو انسان کے لئے لازمی امر ہے اس سے باہر ہو نہیں سکتا ۔ پس جیسے انسان کی روح جسم کو چاہتی ہے۔ معانی الفاظ اور پیرا یہ کو چاہتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو مذہب کی ضرورت ہے۔ ہماری یہ غرض نہیں ہے اور نہ ہم یہ بحث کرتے ہیں کہ کوئی اللہ کہے یا گاڈ کہے یا پرمیشر ۔ ہمارا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جس کو وہ پکارتا ہے اس نے اس کو سمجھا کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ کوئی نام لو مگر یہ بتاؤ کہ تم اسے کہتے کیا ہو؟ اس کے صفات تم نے کیا قائم کئے ہیں؟ صفات الہی کا مسئلہ ہی تو بڑا مسئلہ ہے جس پر غور کرنا چاہیے۔ حق جو ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مذہب کا کام فطرت کو درست کرنا ہے۔ حضرت اقدس ۔ اس وقت کوئی بادشاہ ہے۔ مثلاً شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم ہے۔ اب اگر کسی اور کو