ملفوظات (جلد 2) — Page 109
بھٹی پر چڑھاتا ہے کبھی اس کو صابن لگا تا ہے۔پھر اس کی میل کچیل کو مختلف تدبیروں سے نکالتا ہے۔آخر وہ صاف ہوکر سفیدنکل آتا ہے اور جس قدر میل اس کے اندر ہوتی ہے سب نکل جاتی ہے۔جب ادنیٰ ادنیٰ چیزوں کے لیے اس قدرصبر سے کام لینا پڑتا ہے تو پھر کس قدر نادان ہے وہ شخص جو اپنی زندگی کی اصلاح کے واسطے اور دل کی غلاظتوں اور گندگیوں کودُور کرنے کے لئے یہ خواہش کرے کہ یہ پھونک مارنے سے نکل جائیں اور قلب صاف ہوجائے۔یادرکھو! اصلاح کے لئے صبر شرط ہے۔پھر دوسری بات یہ ہے کہ تزکیہ اخلاق اور نفس کا نہیں ہوسکتا جب تک کہ کسی مزکی نفس انسان کی صحبت میں نہ رہے۔اوّل دروازہ جو کھلتا ہے وہ گندگی دُور ہونے سے کھلتا ہے۔جن پلید چیزوں کو مناسبت ہوتی ہے وہ اندر رہتی ہیں۔لیکن جب کوئی تریاقی صحبت مل جاتی ہے تو اندرونی پلیدی رفتہ رفتہ دُور ہونی شروع ہوتی ہے کیونکہ پاکیزہ رُوح کے ساتھ جس کو قرآن کریم اور اسلام کی اصطلاح میں رُوح القدس کہتے ہیں اس کے ساتھ تعلق نہیں ہوسکتا جب تک کہ مناسبت نہ ہو۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تعلق کب تک پیدا ہو جاتا ہے۔ہاں! ’’خاک شوپیش ازانکہ خاک شوی‘‘ پر عمل ہونا چاہیے۔اپنے آپ کو اس راہ میں خاک کردے اور پورے صبر اور استقلال کے ساتھ اس راہ میں چلے۔آخر اللہ تعالیٰ اس کی سچی محنت کو ضائع نہیں کرے گا۔اور اس کو وہ نور اور روشنی عطاکرے گا جس کا وہ جو یا ہوتا ہے۔میں تو حیران ہوجاتا ہوں اور کچھ سمجھ میں نہیںآتا کہ انسان کیوں دلیری کرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ خداہے۔مجاہدہ مَیں نے جس شخص کا ذکر کیا ہے کہ اس نے مجھ سے کہا کہ پہلے بزرگ پھونک مارکر غوث و قطب بنادیتے تھے میں نے اس کو یہی کہا کہ یہ دُرست نہیں ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا قانون نہیں ہے۔تم مجاہدہ کرو۔تب اللہ تعالیٰ اپنی راہیں تم پر کھولے گا۔اس نے کچھ توجہ نہ کی اور چلاگیا۔ایک مدت کے بعد وہ پھر میرے پاس آیا تو اس کو اس پہلی حالت سے بھی اَبتر پایا۔غرض انسان کی بدقسمتی یہی ہے کہ وہ جلدی کا قانون تجویز کرلیتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ جلدی کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں تو تدریج اور ترتیب ہے تو گھبرااُٹھتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دہریہ ہوجاتا