ملفوظات (جلد 2) — Page 108
کھیت سرسبز لہلہاتا ہوا نظرآئے گا اور یہ خاک آمیختہ بیج رزق بن جائیں گے۔اصلاح کے لئے صبر شرط ہے اب آپ غور کریں کہ دنیاوی اور جسمانی رزق کے لئے جس کے بغیر کچھ دن آدمی زندہ بھی رہ سکتا ہے چھ مہینے درکار ہیں۔حالانکہ وہ زندگی جس کا مدار جسمانی رزق پر ہے اَبدی نہیں بلکہ فنا ہوجانے والی ہے۔پھر رُوحانی رزق جو رُوحانی زندگی کی غذا ہے جس کو کبھی فنا نہیں او روہ ابدالآباد کے لئے رہنے والی ہے۔دوچاردن میں کیوں کرحاصل ہو سکتا ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ایک دم میں جو چاہے کردے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کے نزدیک کوئی چیز اَنہونی نہیں ہے۔اسلام نے ایساخدا پیش ہی نہیں کیا جو مثلاً آریوں کے پیش کردہ پرمیشر کی طرح نہ کسی رُوح (جیو)کو پیدا کرسکے نہ مادہ کو اور نہ اپنے طلبگاروں کو اور صادقوں کو سچی شانتی اور ابدی مکتی دے سکے۔نہیں بلکہ اسلام نے وہ خدا پیش کیا ہے جو اپنی قدرتوں اور طاقتوں میں بے نظیر اور لاشریک خدا ہے۔مگر ہاں اس کا قانون یہی ہے کہ ہرایک کام ایک ترتیب اور تدریج سے ہوتا ہے۔اس لیے صبر اور حُسن ظن سے اگر کام نہ لیا جائے تو کامیابی مشکل ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ پہلے بزرگ پھونک مار کر آسمان پرپہنچادیتے تھے۔مَیں نے کہا کہ تم غلطی کرتے ہو۔خدا تعالیٰ کا یہ قانون نہیں ہے۔اگر ایک مکان میں فرش کرنے لگو تو پہلے ضروری ہوگا کہ اس میں کوئی حصہ قابلِ مرمت ہو تو اس کی مرمت کرنی پڑے گی اور جہاں جہاں گندگی اور ناپاکی پڑی ہوئی ہوتی ہے اس کو فینائل وغیرہ سے صاف کیا جاتا ہے۔غرض بہت سی تدبیروں اور حیلوں کے بعد وہ اس قابل ہو گاکہ اس میں فرش بچھایاجائے۔اسی طرح پر انسان کا دل اس سے پیشترکہ خدا تعالیٰ کے رہنے کے قابل ہو وہ شیطان کا تخت ہے اور سلطنتِ شیطان میں ہے۔اب دوسری سلطنت کے لئے اس شیطانی سلطنت کا قلع و قمع ضروری ہے۔نہایت ہی بدقسمت ہے وہ انسان جو حق کی طلب میں نکلے اور پھر حُسنِ ظن سے کام نہ لے۔ایک گِل گو ہی کو دیکھو کہ اس کو مٹی کا برتن بنانے میں کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔دھوبی ہی کو دیکھو کہ وہ ایک ناپاک اور میلے کچیلے کپڑے کو جب صاف کرنے لگتا ہے تو کس قدر کام اس کو کرنے پڑتے ہیں۔کبھی کپڑے کو