ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 91

چونکہ کوتاہ بین اور دور اندیش نہیں بلکہ ظاہر پرست ہے اس لئے اس کو مناسب ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے اور وہ بظاہر اس کے مفید مطلب نتیجہ خیز نہ ہو تو خدا پر بدظن نہ ہو کہ اس نے میری دعا نہیں سنی۔وہ تو ہر ایک کی دعا سنتا ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن:۶۱) فرماتا ہے۔راز اور بھید یہی ہوتا ہے کہ داعی کے لئے خیر اور بھلائی ردّ دعا ہی میں ہوتی ہے۔دعا کا اصول یہی ہے۔اللہ تعالیٰ قبول دعا میں ہمارے اندیشہ اور خواہش کے تابع نہیں ہوتا ہے۔دیکھو بچے کس قدر اپنی ماؤں کو پیارے ہوتے ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے لیکن اگر بچے بیہودہ طور پر اصرار کریں اور رو کر تیز چاقو یا آگ کا روشن اور چمکتا ہوا چنگارا مانگیں تو کیا ماں باوجود سچی محبت اور حقیقی دلسوزی کے کبھی گوارا کرے گی کہ اس کا بچہ آگ کا انگارہ لے کر ہاتھ جلا لے یا چاقو کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ہاتھ کاٹ لے؟ ہرگز نہیں۔اسی اصول سے اجابت دعا کا اصول سمجھ سکتے ہیں۔میں خود اس امر میں ایک تجربہ رکھتا ہوں کہ جب دعا میں کوئی جزو مضر ہوتا ہے تو وہ دعا ہرگز قبول نہیں ہوتی ہے۔یہ بات خوب سمجھ میں آسکتی ہے کہ ہمارا علم یقینی اور صحیح نہیں ہوتا۔بہت سے کام ہم نہایت خوشی سے مبارک سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے خیال میں ان کا نتیجہ بہت ہی مبارک خیال کرتے ہیں مگر انجام کار وہ ایک غم اور مصیبت ہو کر چمٹ جاتا ہے غرض یہ کہ خواہشات انسانی سب پر صاد نہیں کر سکتے کہ سب صحیح ہیں۔چونکہ انسان سہو اور نسیان سے مرکب ہے اس لئے ہونا چاہیے اور ہوتا ہے کہ بعض خواہش مضر ہوتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس کو منظور کر لے تو یہ امر منصب رحمت کے صریح خلاف ہے۔یہ ایک سچا اور یقینی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے مگر ہر رطب و یابس کو نہیں کیونکہ جوش نفس کی وجہ سے انسان انجام اور مآل کو نہیں دیکھتا اور دعا کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ جو حقیقی بہی خواہ اور مآل بین ہے ان مضرتوں اور بدنتائج کو ملحوظ رکھ کر جو اس دعا کے تحت میں بصورت قبول داعی کو پہنچ سکتے ہیں اسے ردّ کر دیتا ہے اور یہ ردّ دعا ہی اس کے لئے قبول دعا ہوتا ہے۔پس ایسی دعائیں جن میں انسان حوادث اور صدمات سے محفوظ رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے مگر مضر دعاؤں کو بصورت رد قبول فرما لیتا ہے۔مجھے یہ الہام بار ہا ہو چکا