ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 90

ہوں کہ میرے دوست ہر قسم کے آرام اور آسائش سے رہیں۔یہ ہمدردی اور یہ غم خواری کسی تکلّف اور بناوٹ کی رو سے نہیں بلکہ جس طرح والدہ اپنے بچوں میں سے ہر واحد کے آرام و آسائش کے فکر میں مستغرق رہتی ہے خواہ وہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں اسی طرح میں للّٰہی دلسوزی اور غم خواری اپنے دل میں اپنے دوستوں کے لئے پاتا ہوں اور یہ ہمدردی کچھ ایسی اضطراری حالت پر واقع ہوئی ہے کہ جب ہمارے دوستوں میں سے کسی کا خط کسی قسم کی تکلیف یا بیماری کے حالات پر مشتمل پہنچتا ہے تو طبیعت میں ایک بے کلی اور گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے اور ایک غم شامل حال ہو جاتا ہے اور جوں جوں احباب کی کثرت ہوتی جاتی ہے اسی قدر یہ غم بڑھتا جاتا ہے اور کوئی وقت ایسا خالی نہیں رہتا جبکہ کسی قسم کا فکر اور غم شامل حال نہ ہو کیونکہ اس قدر کثیر التعداد احباب میں سے کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی غم اور تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کی اطلاع پر ادھر دل میں قلق اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔میں نہیں بتلا سکتا کہ کس قدر اوقات غموں میں گزرتے ہیں۔چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی ہستی ایسی نہیں جو ایسے ہموم اور افکار سے نجات دیوے اس لئے میں ہمیشہ دعاؤں میں لگا رہتا ہوں اور سب سے مقدم دعا یہی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں کو ہموم اور غموم سے محفوظ رکھے کیونکہ مجھے تو ان کے ہی افکار اور رنج غم میں ڈالتے ہیں۔اور پھر یہ دعا مجموعی ہیئت سے کی جاتی ہے کہ اگر کسی کو کوئی رنج اور تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے اس کو نجات دے۔ساری سرگرمی اور پورا جوش یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کروں۔دعا کی قبولیت میں بڑی بڑی امیدیں ہیں۔قبولیت دعا کے اصول بلکہ میرے ساتھ میرے مولیٰ کریم کا صاف وعدہ ہے کہ اُجِیْبُ کُلَّ دُعَائِکَ مگر میں خوب سمجھتا ہوں کہ کُلَّ سے مراد یہ ہے کہ جن کے نہ سننے سے ضرر پہنچ جاتا ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ تربیت اور اصلاح چاہتا ہے تو ردّ کرنا ہی اجابت دعا ہوتا ہے۔بعض اوقات انسان کسی دعا میں ناکام رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے دعا ردّ کر دی حالانکہ خدائے تعالیٰ اس کی دعا کو سن لیتا ہے اور وہ اجابت بصورت ردّ ہی ہوتی ہے کیونکہ اس کے لئے درپردہ اور حقیقت میں بہتری اور بھلائی اس کے ردّ ہی میں ہوتی ہے۔انسان