ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 87

آپؐ کے پاس ایک وقت بہت سی بھیڑیں تھیں۔ایک شخص نے کہا اس قدر مال اس سے پیشتر کسی کے پاس نہیں دیکھا۔حضورؐ نے وہ سب بھیڑیں اس کو دے دیں۔اس نے فی الفور کہا کہ لاریب آپ سچے نبی ہیں سچے نبی کے بغیر اس قسم کی سخاوت دوسرے سے عمل میں آنی مشکل ہے۔الغرض آنحضرتؐ کے اخلاق فاضلہ ایسے تھے کہ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم:۵) قرآن میں وارد ہوا۔ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں پس ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں۔کیونکہ اَلْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ مشہور ہے۔وہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی ان پر سختی کرے تو حتی الوسع اس کا جواب نرمی اور ملاطفت سے دیں۔تشدد اور جبر کی ضرورت انتقامی طور پر بھی نہ پڑنے دیں۔انسان میں نفس بھی ہے اور اس کی تین قسم ہیں۔اَمّارَۃ، لَوَّامَۃ، مُطْمَئِنَّۃ۔اَمّارہ کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوشوں کو سنبھال نہیں سکتا اور اندازہ سے نکل جاتا اور اخلاقی حالت سے گر جاتا ہے مگر حالتِ لوّامہ میں سنبھال لیتا ہے۔مجھے ایک حکایت یاد آئی جو سعدی نے بوستان میں لکھی ہے کہ ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا۔گھر آیا تو گھر والوں نے دیکھا کہ اسے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔ایک بھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی وہ بولی آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا؟ اس نے جواب دیا بیٹی! انسان سے کُت پن نہیں ہوتا۔اسی طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔نہیں تو وہی کُت پن کی مثال صادق آئے گی۔خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بری طرح ستایا گیا مگر ان کو اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ (الاعراف:۲۰۰) کا ہی خطاب ہوا۔خود اس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بُری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا۔ان کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم