ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 71

قرآن مجید کا چیلنج اگر کوئی قرآن کریم کے اس معجزہ کا انکار کرے تو ایک ہی پہلو میں ہم لوگوں کو آزما لیتے ہیں یعنی اگر قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتا تو اس روشنی اور سائنس کے زمانہ میں ایسا مدعی خدائے تعالیٰ کی ہستی پر دلائل لکھے ہم وہ تمام دلائل قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھا دیں گے۔اور اگر توحید الٰہی کی نسبت دلائل قلم بند کرے تو وہ سب دلائل بھی قرآن کریم ہی سے نکال کر دکھا دیں گے اور وہ ویسے دلائل کا دعویٰ کر کے لکھیں کہ یہ دلائل جو قرآن کریم میں نہیں یا ان صداقتوں اور پاک تعلیموں پر لکھے جن کی نسبت ان کا خیال ہو کہ وہ قرآن کریم میں نہیں تو ہم اس کو واضح طور پر دکھلا دیں گے کہ قرآن کا دعویٰ فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (البیّنۃ:۴) کیسا سچا اور صاف ہے اور یا اصل اور فطرتی مذہب کی بابت دلائل لکھنا چاہے تو ہم ہر پہلو سے قرآن کریم کا اعجاز ثابت کر کے دکھائیں گے اور بتلا دیں گے کہ تمام صداقتیں اور پاک تعلیمیں اسی میں موجود ہیں۔الغرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے کہ ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار اس میں موجود ہیں لیکن ان کے حاصل کرنے کے لئے میں پھر کہتا ہوں کہ اسی قوت قدسیہ کی ضرورت ہے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ (الواقعۃ:۸۰) ایسا ہی فصاحت ،بلاغت میں مثلاً سورہ فاتحہ کی ترکیب چھوڑ کر اور ترکیب استعمال کرو تو وہ مطالب عالیہ اور مقاصد اعلیٰ جو اس ترکیب میں موجود ہیں ممکن نہیں کسی دوسری ترکیب میں بیان ہوسکیں۔کوئی سورۃ لے لو۔خواہ قُلْ هُوَ اللّٰهُ ہی کیوں نہ ہو۔جس قدر نرمی، ملاطفت کی رعایت کو ملحوظ رکھ کر اس میں معارف اور حقائق ہیں وہ کوئی دوسرا بیان نہ کر سکے گا۔یہ بھی اعجازِ قرآن ہی ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب بعض نادان مَقَامَاتِ حَرِیْرِیْ یا سَبْعَ مُعَلَّقَہ کو بے نظیر اور بے مثل کہتے ہیں اور اس طرح پر قرآن کریم کی بے مانندیت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ اول تو حریری کے مصنف نے کہیں اس کے بے نظیر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا پھر وہ خود قرآن کی اعجازی فصاحت کا قائل تھا۔ان باتوں کو چھوڑ کر وہ راستی اور صداقت کو ذہن میں نہیں رکھتے بلکہ ان کو چھوڑ کر الفاظ کی طرف جاتے رہے ہیں وہ کتابیں حق اور حکمت سے خالی ہیں۔