ملفوظات (جلد 1) — Page 60
آج کل کے تعلیم یافتوں پر ایک اور بڑی آفت جو آکر پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو دینی علوم سے مطلق مس ہی نہیں ہوتا۔پھر جب وہ کسی ہیئت دان یا فلسفہ دان کے اعتراض پڑھتے ہیں تو اسلام کی نسبت شکوک اور وساوس ان کو پیدا ہو جاتے ہیں۔پھر وہ عیسائی یا دہریہ بن جاتے ہیں۔ایسی حالت میں ان کے والدین بھی ان پر بڑا ظلم کرتے ہیں کہ وہ دینی علوم کی تحصیل کے لئے ذرا سا وقت بھی ان کو نہیں دیتے اور ابتدا ہی سے ایسے دھندوں اور بکھیڑوں میں ڈالتے ہیں جو انہیں پاک دین سے محروم کر دیتے ہیں۔دینی تعلیم و تربیت کا صحیح وقت یہ بات بھی غور کرنے کے قابل ہے کہ دینی علوم کی تحصیل کے لئے طفولیت کا زمانہ بہت ہی مناسب اور موزوں ہے۔جب داڑھی نکل آئی پھر ضَـرَبَ یَضْـرِبُ یاد کرنے بیٹھے تو کیا خاک ہو گا؟ طفولیت کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے۔انسانی عمر کے دوسرے وقت پر ایسا حافظہ کبھی بھی نہیں ہوتا۔مجھے خوب یاد ہے کہ بعض طفولیت کی باتیں تو اب تک یاد ہیں لیکن پندرہ برس پہلے کی اکثر باتیں یاد نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی عمر میں علم کے نقوش ایسے طور پر اپنی جگہ کر لیتے ہیں اور قویٰ کے نشوونما کی عمر ہونے کے باعث ایسے دلنشیں ہو جاتے ہیں کہ پھر ضائع نہیں ہو سکتے۔غرض یہ ایک طویل امر ہے۔مختصر یہ ہے کہ تعلیمی طریق میں اس امر کا لحاظ اور خاص توجہ چاہیے کہ دینی تعلیم ابتدا سے ہی ہو۔میری ابتدا سے یہی خواہش رہی ہے اور اب بھی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرے۔دیکھو تمہاری ہمسایہ قوموں یعنی آریوں نے کس قدر حیثیت تعلیم کے لئے بنائی۔کئی لاکھ سے زیادہ روپیہ جمع کر لیا۔کالج کی عالیشان عمارت اور سامان بھی پیدا کیا۔اگر مسلمان پورے طور پر اپنے بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہ کریں گے تو میری بات سن رکھیں کہ ایک وقت ان کے ہاتھ سے بچے بھی جاتے رہیں گے۔صحبت کا اثر مثل مشہور ہے ’’ تخم تاثیر صحبت را اثر ‘‘# اس کے اول جزو پر کلام ہو تو ہو لیکن دوسرا حصہ ’’صحبت را اثر‘‘ ایسا ثابت شدہ مسئلہ ہے کہ اس پر زیادہ بحث کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔ہر ایک شریف قوم کے بچوں کا عیسائیوں کے پھندے میں پھنس جانا اور مسلمانوں