ملفوظات (جلد 1) — Page 52
بدنام کرنے والا ہوگا۔اور اسلام کا کبھی ایسا منشا نہ تھا کہ بے مطلب اور بلا ضرورت تلوار اٹھائی جاوے۔اب لڑائیوں کی اغراض جیسا کہ میں نے کہا ہے فن کی شکل میں آکر دینی نہیں رہیں بلکہ دنیوی اغراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔پس کس قدر ظلم ہو گا کہ اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کی بجائے تلوار دکھائی جائے۔اب زمانہ کے ساتھ حرب کا پہلو بدل گیا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے اپنے دل اور دماغ سے کام لیں اور نفوس کا تزکیہ کریں۔راستبازی اور تقویٰ سے خدائے تعالیٰ سے امداد اور فتح چاہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا ایک اٹل قانون اور مستحکم اصول ہے کہ اگر مسلمان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں تو یہ ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ لاف گزاف اور لفظوں کو نہیں چاہتا وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ (النّحل :۱۲۹) عقل سے بھی کام لینا چاہیے ہم کو عقل سے بھی کام لینا چاہیے کیونکہ انسان عقل کی وجہ سے مکلّف ہے۔کوئی آدمی بھی خلاف عقل باتوں کے ماننے پر مجبور نہیں ہو سکتا۔قویٰ کی برداشت اور حوصلہ سے بڑھ کر کسی قسم کی شرعی تکلیف نہیں اٹھوائی گئی۔لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرۃ:۲۸۷) اس آیت سے صاف طور پر پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام ایسے نہیں جن کی بجا آوری کوئی کر ہی نہ سکے اور نہ شرائع و احکام خدائے تعالیٰ نے دنیا میں اس لئے نازل کئے کہ اپنی بڑی فصاحت و بلاغت اور ایجادی قانونی طاقت اور چیستان طرازی کا فخر انسان پر ظاہر کرے اور یوں پہلے ہی سے اپنی جگہ ٹھان رکھا تھا کہ کہاں بیہودہ ضعیف انسان اور کہاں کا ان حکموں پر عمل درآمد؟ خدا تعالیٰ اس سے برتر و پاک ہے کہ ایسا لغو فعل کرے۔ہاں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں کوئی آدمی شریعت کی تابعداری اور خدا کے حکموں کی بجا آوری کر ہی نہیں سکتا۔نادان اتنا نہیں جانتے کہ پھر خدا کو شریعت کے بھیجنے کی کیا ضرورت پڑی تھی۔ان کے خیال اور اعتقاد میں گویا اللہ تعالیٰ نے (نعوذ باللہ) پہلے نبیوں پر شریعت نازل کر کے ایک عبث اور بیہودہ کام کیا۔اصل میں خدا کی ذاتِ پاک پر اس قسم کی عیب تراشی کی ضرورت