ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 51

وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکائد کی رو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدان کار زار میں اتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھاؤں۔میں کب اس میدان کے قابل ہو سکتا تھا؟ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔میں نے ایک وقت ان اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کئے ہیں۔ان کی تعداد اس وقت میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تو اور بھی تعداد بڑھ گئی ہوگی۔کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بنا ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔نہیں ایسا ہرگز نہیں۔یہ اعتراضات تو کوتاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہ میں دراصل بہت ہی نادر صداقتیں موجود ہیں جو عدم بصیرت کی وجہ سے ان کو دکھائی نہیں دیں اور حقیقت میں یہ خدائے تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نابینا معترض آکر اٹکا ہے وہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے۔مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض اور خدائے تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دنیا کو دکھاؤں اور ناپاک اعتراضات کا کیچڑ جو ان درخشاں جواہرات پر تھوپا گیا ہے اسے پاک صاف کروں۔خدائے تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑے جوش میں ہے کہ قرآن کریم کی ساخت عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ و مقدس کرے۔الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں۔کس قدر بیوقوفی ہو گی کہ ہم ان سے لٹھم لٹھا ہونے کو تیار ہو جائیں۔میں تمہیں کھول کر بتلاتا ہوں کہ ایسی صورت میں اگر کوئی اسلام کا نام لے کر جنگ و جدال کا طریق جواب میں اختیار کرے تو وہ اسلام کا