ملفوظات (جلد 1) — Page 50
ہے بلکہ حقیقتاً امن اور سِلْم اور آشتی کا اشاعت کنندہ ہی اسلام ہے کیونکر اس زمانہ امن و آزادی میں اس پہلے نمونہ کو دکھانا پسند کر سکتا تھا؟ پس آج کل وہی دوسرا نمونہ یعنی روحانی مجاہدہ مطلوب ہے کیونکہ کہ حلوا چو یکبار خوردند و بس # موجودہ زمانہ میں جہاد ایک اور بات بھی ہے کہ اس پہلے نمونہ کے دکھانے میں ایک اور امر بھی ملحوظ تھا یعنی اس وقت اظہار شجاعت بھی مقصود تھا جو اس وقت کی دنیا میں سب سے زیادہ محمود اور محبوب وصف سمجھی جاتی تھی اور اِس وقت تو حرب ایک فن ہو گیا ہے کہ دور بیٹھے ہوئے بھی ایک آدمی توپ اور بندوق چلا سکتا ہے۔ان دنوں میں سچا بہادر وہ تھا جو تلواروں کے سامنے سینہ سپر ہوتا اور آج کل کا فن حرب تو بزدلوں کا پردہ پوش ہے۔اب شجاعت کا کام نہیں بلکہ جو شخص آلات حرب جدید اور نئی توپیں وغیرہ رکھتا اور چلا سکتا ہے وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔اُس حرب کا مدعا اور مقصد مومنوں کے مخفی مادہ شجاعت کا اظہار تھا اور خدائے تعالیٰ نے جیسا چاہا خوب طرح اسے دنیا پر ظاہر کیا۔اب اس کی حاجت نہیں رہی اس لئے کہ اب جنگ نے فن اور مکیدت اور خدیعت کی صورت اختیار کر لی ہے اور نئے نئے آلات حرب اور پیچ دار فنون نے اس قیمتی اور قابل فخر جوہر کو خاک میں ملا دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں دفاعی لڑائیوں اور جسمانی جنگوں کی اس لئے بھی ضرورت پڑتی تھی کہ دعوت اسلام کرنے والے کا جواب ان دنوں دلائل و براہین سے نہیں بلکہ تلوار سے دیا جاتا تھا۔اس لئے لاچار جواب الجواب میں تلوار سے کام لینا پڑا لیکن اب تلوار سے جواب نہیں دیا جاتا بلکہ قلم اور دلائل سے اسلام پر نکتہ چینیاں کی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ سیف (تلوار) کا کام قلم سے لیا جاوے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیا جاوے۔اس لئے اب کسی کو شایاں نہیں کہ قلم کا جواب تلوار سے دینے کی کوشش کرے۔گر حفظِ مراتب نکنی زندیقی # اس وقت قلم کی ضرورت ہے اس وقت جو ضرورت ہے وہ یقیناً سمجھ لو سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات