ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 49

خارجی طور پر ہمارے مشاہدہ میں آتی ہیں اور ہم ان کی ماہیت نہایت سہولت اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔پس ان پر قیاس کر کے روحانی سلسلہ اور روحانی امور کی فلاسفی سمجھ میں آنی مشکل نہیں ہوتی اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور برکت ہے جو اس نے اس تاریکی اور ضلالت کے زمانہ میں معرفت کا نور آسمان سے اتارا تاکہ بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھلائے اور ایسا طریق اور پیرایہ ظاہر کیا جو اَب تک راز کے طور پر تھا۔وہ کیا؟ یہی لغت عرب کی فلاسفی اور ماہیت سے استدلال۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے فضل کی قدر کرتے اور اس کے لینے کو طیار ہو جاتے ہیں۔اسلام کو جنگ کی دو قوتیں دی گئی تھیں اب دیکھو کہ یہی رباط کا لفظ جو ان گھوڑوں پر بولا جاتا ہے جو سرحد پر دشمنوں سے حفاظت کے لئے باندھے جاتے ہیں۔ایسا ہی یہ لفظ ان نفسوں پر بھی بولا جاتا ہے جو اس جنگ کی تیاری کے لئے تعلیم یافتہ ہوں جو انسان کے اندر ہی اندر شیطان سے ہر وقت جاری ہے۔یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ اسلام کو دو قوتیں جنگ کی دی گئی تھیں۔ایک قوت وہ تھی جس کا استعمال صدر اول میں بطور مدافعت و انتقام کے ہوا۔یعنی مشرکین عرب نے جب ستایا اور تکلیفیں دیں تو ایک ہزار نے ایک لاکھ کفار کا مقابلہ کر کے شجاعت کا جوہر دکھایا اور ہر امتحان میں اس پاک قوت و شوکت کا ثبوت دیا۔وہ زمانہ گزر گیا اور رباط کے لفظ میں جو فلاسفی ظاہری قوت جنگ اور فنون جنگ کی مخفی تھی وہ ظاہر ہو گئی ہے۔اس زمانہ میں جنگ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب ہیں اب اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں جنگِ ظاہری کی مطلق ضرورت اور حاجت نہیں بلکہ ان آخری دنوں میں جنگِ باطنی کے نمونے دکھانے مطلوب تھے اور روحانی مقابلہ زیر نظر تھا کیونکہ اس وقت باطنی ارتداد اور الحاد کی اشاعت کے لئے بڑے بڑے سامان اور اسلحہ بنائے گئے۔اس لئے ان کا مقابلہ بھی اسی قسم کے اسلحوں سے ضروری ہے کیونکہ آج کل امن و امان کا زمانہ ہے اور ہم کو ہر طرح کی آسائش اور امن حاصل ہے۔آزادی سے ہر آدمی اپنے مذہب کی اشاعت اور تبلیغ اور احکام کی بجاآوری کر سکتا ہے۔پھر اسلام جو امن کا سچا حامی