ملفوظات (جلد 1) — Page 48
نکمے ہو جائیں گے اور وہ تھک کر بالکل بے کار ہو جائے گا اور خود ہی آخر دشمن کا شکار ہو جائے گا۔مجاہدہ اور ریاضت پس سمجھ لو اور خوب سمجھ لو کہ نرا علم و فن اور خشک تعلیم بھی کچھ کام نہیں دے سکتی جب تک کہ عمل اور مجاہدہ اور ریاضت نہ ہو۔دیکھو سرکار بھی فوجوں کو اسی خیال سے بیکار نہیں رہنے دیتی۔عین امن و آرام کے دنوں میں بھی مصنوعی جنگ برپا کر کے فوجوں کو بیکار نہیں ہونے دیتی اور معمولی طور پر چاند ماری اور پریڈ وغیرہ تو ہوتی ہی رہتی ہے۔جیسا ابھی میں نے بیان کیا کہ میدان کارزار میں کامیاب ہونے کے لئے جہاں ایک طرف طریق استعمال اسلحہ وغیرہ کی تعلیم اور واقفیت کی ضرورت ہے وہاں دوسری طرف ورزش اور محل استعمال کی بھی بڑی بھاری ضرورت ہے اور نیز حرب و ضرب میں تعلیم یافتہ گھوڑے چاہئیں۔یعنی ایسے گھوڑے جو توپوں اور بندوقوں کی آواز سے نہ ڈریں اور گرد و غبار سے پراگندہ ہو کر پیچھے نہ ہٹیں بلکہ آگے ہی بڑھیں۔اسی طرح نفسوس انسانی کامل ورزش اور پوری ریاضت اور حقیقی تعلیم کے بغیر اعداء اللہ کے مقابل میدان کار زار میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔عربی زبان کی خوبی لغت عرب بھی عجیب چیز ہے۔مقابلہ بھی اسی پر ختم ہے۔رباط کا لفظ جو آیہ مذکورہ میں آیا ہے جہاں دنیاوی جنگ و جدل اور فنون جنگ کی فلاسفی پر مشتمل ہے وہاں روحانی طور پر اندرونی جنگ اور مجاہدۂ نفس کی حقیقت اور خوبی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک عجیب سلسلہ ہے۔اسی لئے عربی زبان اُمُّ الْاَلْسِنَۃِ ہے۔اس سے وہ کام نکلتے ہیں جو دوسری زبان سے ممکن نہیں اور انشاء اللہ یہ معارف نہایت وضاحت اور لطافت سے کتاب منن الرحمٰن کے ذریعہ سے ظاہر ہوں گے جو میں نے آج کل عربی زبان کی فضیلت اور اس کو اُمُّ الْاَلْسِنَۃِ ثابت کرنے کے بارہ میں لکھنی شروع کی ہے۔معلوم ہو جائے گا کہ یوروپین لوگوں کی تحقیقاتیں بالکل نامکمل اور ادھوری ہیں۔اور ان کو بھی پتہ لگ جائے گا کہ زبانوں کی گم گشتہ ماں بھی اس زمانہ ہی میں جہاں اور گمشدہ دینی صداقتیں مل گئی ہیں مل گئی ہے اور وہ عربی ہی ہے۔الغرض عربی زبان کی لغت جسمانی سلسلہ میں روحانی سلسلہ بھی دکھاتی جاتی ہے۔اس لئے کہ جسمانی امور اور جسمانی باتیں