ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 507 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 507

اکثر لوگوں نے یہاں پہنچ کر ٹھوکر کھائی ہے اور عیسائیوں نے بھی ایسی حدیثوں پر بڑے بڑے اعتراض کیے ہیں مگر احمقوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مفید اور مبارک طرز جواب پر غور نہیں کی۔اس میں سِرّ یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس قسم کا مریض آتا تھا اس کے حسب حال نسخہ شفا بتلا دیتے تھے۔جس میں مثلاً بخل کی عادت تھی اس کے لئے بہترین نیکی یہی ہو سکتی تھی کہ اس کو ترک کرے۔جو ماں باپ کی خدمت نہیں کرتا تھا بلکہ ان سے سختی کے ساتھ پیش آتا تھا اس کو اسی قسم کی تعلیم کی ضرورت تھی کہ وہ ماں باپ کی خدمت کرے۔جماعت کو نصیحت طبیب کے لئے جیسا ضروری ہے کہ تشخیص عمدہ طور پر کرے اسی طرح پر واعظ کے منصب کا یہ فرض ہے کہ وعظ و پند سے پہلے ان لوگوں کے امراض کو مدّ نظر رکھے جن میں وہ مبتلا ہیں۔مگر مشکل تو یہی ہے کہ یہ فراست اور یہ معرفت حقانی واعظ کے سوا دوسرے کو ملتی ہی کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں باوصفیکہ سینکڑوں، ہزاروں واعظ پھرتے ہیں لیکن عملی حالت ملک کی دن بدن پستی کی طرف جارہی ہے۔ہر قسم کی اعتقادی، ایمانی، اخلاقی غلطیاں اور کمزوریاں اپنا اثر کرتی جاتی ہیں۔یہ اس لئے کہ وعظوں میں حقانیت نہیں، روح نہیں۔یہ سب کچھ ہے مگر میں اس وقت اپنے دوستوں کو پھر یہی بتلانا چاہتا ہوں کہ چونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے دلوں میں طلب حق کی پیاس کو محسوس کیا ہے وہ راستی اور صداقت کے لینے میں مضائقہ نہ کریں۔گو واعظ مختلف رنگوں اور پیرایوں میں اپنا سوال ہی پیش کرے مگر تم کو نہیں چاہیے کہ صرف اس ایک وجہ سے اصل حکمت کو چھوڑ دو کیونکہ وہ جو اُن کے سوال کو سن کر ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ بھی تو غلطی پر ہے۔کیا کسی لعل اور گوہر نایاب کو محض اس لیے پھینک دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بدبودار اور میلی کچیلی ٹلی (دھجی کپڑے کی) میں بندھا ہوا ہے؟ ہرگز نہیں۔اس کے سوا اگر واعظ سوال کرتا ہے تو کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ (الضحٰی: ۱۱) اور سائل خواہ گھوڑے پر ہی سوار ہو کر آیا ہے پھر بھی واجب نہیں کہ اس کو رد کیا جاوے۔تیرے لیے یہ حکم ہے کہ تو اس کو جھڑک نہیں۔ہاں خدا نے اس کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ سوال نہ کرے۔وہ اپنی