ملفوظات (جلد 1) — Page 481
ایک نیک دل اور سلیم الفطرت انسان کو ملتا ہے۔اتنا نہیں سوچتے کہ سائل اگر باوجود صحت کے سوال کرتا ہے تو وہ خود گناہ کرتا ہے۔اس کو کچھ دینے میں تو گناہ لازم نہیں آتا بلکہ حدیث شریف میں لَوْ اَتَاکَ رَاکِبًا کے الفاظ آئے ہیں۔یعنی خواہ سائل سوار ہوکر بھی آوے تو بھی کچھ دے دینا چاہیے اور قرآن شریف میں وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ (الضّحٰی:۱۱) کا ارشاد آیا ہے کہ سائل کو مت جھڑک۔اس میں یہ کوئی صراحت نہیں کی گئی کہ فلاں قسم کے سائل کو مت جھڑک اور فلاں قسم کے سائل کو جھڑک۔پس یاد رکھو کہ سائل کو نہ جھڑکو کیونکہ اس سے ایک قسم کی بداخلاقی کا بیج بویا جاتا ہے۔اخلاق یہی چاہتا ہے کہ سائل پر جلدی ناراض نہ ہو۔یہ شیطان کی خواہش ہے کہ وہ اس طریق سے تم کو نیکی سے محروم رکھے اور بدی کا وارث بنادے۔ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے غور کرو کہ ایک نیکی کرنے سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح پر ایک بدی دوسری بدی کا موجب ہوجاتی ہے۔جیسے ایک چیز دوسری کو جذب کرتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ تجاذب کا مسئلہ ہر فعل میں رکھا ہوا ہے۔پس جب سائل سے نرمی کے ساتھ پیش آئے گا اور اس طرح پر اخلاقی صدقہ دے دے گا تو قبض دور ہوکر دوسری نیکی بھی کرلے گا اور اُس کو کچھ دے بھی دے گا۔اخلاق نیکیوں کی کلید ہے اخلاق دوسری نیکیوں کی کلید ہے۔جو لوگ اخلاق کی اصلاح نہیں کرتے وہ رفتہ رفتہ بے خیر ہوجاتے ہیں۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ دنیا میں ہر ایک چیز کام آتی ہے۔زہر اور نجاست بھی کام آتی ہے۔اسٹرکنیا بھی کام آتا ہے۔اعصاب پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔مگر انسان جو اخلاقِ فاضلہ کو حاصل کرکے نفع رساں ہستی نہیں بنتا ایسا ہوجاتا ہے کہ وہ کسی بھی کام نہیں آسکتا۔مُردار حیوان سے بھی بدتر ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی تو کھال اور ہڈیاں بھی کام آجاتی ہیں۔اُس کی تو کھال بھی کام نہیں آتی۔اور یہی وہ مقام ہوتا ہے۔جہاں انسان بَلْ ھُمْ اَضَلُّ (الاعراف:۱۸۰) کا مصداق ہوجاتا ہے۔پس یاد رکھو کہ اخلاق کی درستی بہت ضروری چیز ہے کیونکہ نیکیوں کی ماں اخلاق ہی ہے۔