ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 480

انسان کام نہ لے تو سمجھو بہت ہی بڑا بدنصیب ہے۔مَیں نے کہا ہے کہ مالی اور جسمانی ہمدردی میں انسان مجبور ہوتا ہے مگر دعا کے ساتھ ہمدردی میں مجبور نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ دعا میں دشمنوں کو بھی باہر نہ رکھے۔جس قدر دعا وسیع ہوگی اسی قدر فائدہ دعا کرنے والے کو ہوگا اور دعا میں جس قدر بخل کرے گا اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قُرب سے دُور ہوتا جاوے گا اور اصل تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے عطیہ کو جو بہت ہی وسیع ہے جو شخص محدود کرتا ہے اس کا ایمان بھی کمزور ہے۔لمبی عمر پانے کا نسخہ دُوسروں کے لئے دعا کرنے میں ایک عظیم الشان فائدہ یہ بھی ہے کہ عمر دراز ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ وعدہ کیا ہے کہ جو لوگ دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں اور مفید وجود ہوتے ہیں اُن کی عمر دراز ہوتی ہے جیسے کہ فرمایا اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ (الرّعد:۱۸) اور دوسری قسم کی ہمدردیاں چونکہ محدود ہیں اس لئے خصوصیت کے ساتھ جو خیر جاری قرار دی جاسکتی ہے وہ یہی دعا کی خیر جاری ہے۔جب کہ خیر کا نفع کثرت سے ہے تو اس آیت کا فائدہ ہم سب سے زیادہ دعا کے ساتھ اُٹھاسکتے ہیں اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ جو دنیا میں خیر کا موجب ہوتا ہے اس کی عمر دراز ہوتی ہے اور جو شر کا موجب ہوتا ہے وہ جلدی اُٹھا لیا جاتا ہے۔کہتے ہیں شیر سنگھ چڑیوں کو زندہ پکڑ کر آگ پر رکھا کرتا تھا۔وہ دو برس کے اندر ہی مارا گیا۔پس انسان کو لازم ہے کہ وہ خَیْرُالنَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاسَ بننے کے واسطے سوچتا رہے اور مطالعہ کرتا رہے۔جس طرح طبابت میں حیلہ کام آتا ہے اسی طرح نفع رسانی اور خیر میں بھی حیلہ ہی کام دیتا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ انسان ہر وقت اس تاک اور فکر میں لگا رہے کہ کس راہ سے دُوسرے کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔سائل کو جھڑکنا نہیں چاہیے بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ سائل کو دیکھ کر چڑ جاتے ہیں اور اگر کچھ مولویت کی رگ ہو تو اس کو بجائے کچھ دینے کے سوال کے مسائل سمجھانے شروع کردیتے ہیں اور اس پر اپنی مولویت کا رُعب بٹھا کر بعض اوقات سخت سُست بھی کہہ بیٹھتے ہیں۔افسوس ان لوگوں کو عقل نہیں اور سوچنے کا مادہ نہیں رکھتے جو