ملفوظات (جلد 1) — Page 472
کرو۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علّت غائی یہی عبادت ہے۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (الذّٰریات:۵۷) عبادت کی حقیقت عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت، کجی کو دُور کرکے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سُرمہ کو باریک کرکے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنالیتے ہیں۔اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر، پتھر، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا رُوح ہی رُوح ہو اس کا نام عبادت ہے چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہوجاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ناہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔مَیں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اُس میں پیدا ہوکر نشوونما پائیں گے اور وہ اثمار شیریں و طیب ان میں لگیں گے جو اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ (الرّعد:۳۶) کے مصداق ہوں گے۔یاد رکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔جب سالک یہاں پہنچتا ہے تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔اس کا دل عرش الٰہی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُس پر نزول فرماتا ہے۔سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہوجاتی ہیں کہ انسان کی حالتِ تعبد درست ہو جس میں رُوحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے۔اسی مقام پر پہنچ کر انسان دنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَاُتُوۡا بِہٖ مُتَشَابِہً (البقرۃ:۲۶) کہنے کا حظ اور لُطف اُٹھاتا ہے۔غرض حالت تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے۔پھر فرمایا اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ (ھود:۳) چونکہ یہ تعبد تام کا عظیم الشان کام انسان بدُوں کسی اُسوۂ حسنہ اور نمونہٴ کاملہ کے اور کسی قوتِ قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کرسکتا تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَیں اسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہوکر آیا ہوں اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول کرو گے تو تمہارے لیے بڑی