ملفوظات (جلد 1) — Page 465
ساری باتوں کو یکجائی طور پر دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اوّل خدا تعالیٰ مدد دیتا ہے پھر دُوسرے درجہ پر مامور من اللہ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں جوش ڈالا ہے اور وہ اِسی جوش اور تقاضائے فطرت کے ساتھ مخلوق کی بہتری میں ہر ایک قسم کی کوشش کرتے ہیں جیسے ماں اپنے بچے کو دودھ دیتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔اس لیے کہ والدہ کا نفس مزکی نہیں ہے اور یہ مزکی النفس لوگ ہوتے ہیں۔انہیں کو صادقین اس آیت كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ : ۱۱۹) میں فرمایا گیا ہے۔منعم علیہ گروہ اب مَیں سورۃ الفاتحہ کی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ (الفاتـحۃ:۶) میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ طلب کی گئی ہے اور مَیں نے کئی مرتبہ یہ بات بیان کی ہے کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں چار گروہوں کا ذکر ہے۔نبی، صدیق، شہید، صالح۔پس جبکہ ایک مومن یہ دعا مانگتا ہے تو ان کے اخلاق اور عادات اور علوم کی درخواست کرتا ہے۔اس پر اگر ان چار گروہوں کے اخلاق حاصل نہیں کرتا تو یہ دعا اُس کے حق میں بے ثمر ہوگی اور وہ بے جان لفظ بولنے والا حیوان ہے۔یہ چار طبقے ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے علومِ عالیہ اور مراتب عظیمہ حاصل کیے ہیں۔نبی وہ ہوتے ہیں جن کا تبتل الی اللہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ خدا سے کلام کرتے اور وحی پاتے ہیں اور صدیق وہ ہوتے ہیں جو صدق سے پیار کرتے ہیں۔سب سے بڑا صدق لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے اور پھر دوسرا صدق مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ہے۔وہ صدق کی تمام راہوں سے پیار کرتے ہیں اور صدق ہی چاہتے ہیں۔تیسرے وہ لوگ ہیں جو شہید کہلاتے ہیں۔وہ گویا خدا تعالیٰ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔شہید وہی نہیں ہوتا جو قتل ہو جاوے۔کسی لڑائی یا وبائی امراض میں مارا جاوے بلکہ شہید ایسا قوی الایمان انسان ہوتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے سے بھی دریغ نہ ہو۔صالحین وہ ہوتے ہیں جن کے اندر سے ہر قسم کا فساد جاتا رہے۔جیسے تندرست آدمی جب ہوتا ہے تو اس کی زبان کا مزا بھی درست ہوتا ہے۔پورے اعتدال کی حالت میں تندرست کہلاتا ہے۔کسی قسم کا فساد اندر نہیں رہتا۔اسی طرح پر صالحین کے اندر کسی قسم کی روحانی مرض نہیں ہوتی اور کوئی مادہ فساد کا نہیں ہوتا۔اس کا کمال اپنے نفس میں نفی کے وقت ہے اور