ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 464 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 464

ہوتی ہے۔اگر بادشاہ کی طرف سے اُس کو حکم بھی دیا جاوے کہ اگر وہ اپنے بچے کو دودھ نہ بھی دے اور اس طرح پر اُس کے ایک دو بچے مَر بھی جاویں تو اس کو معاف ہیں اور اس سے کوئی بازپرس نہ ہوگی تو کیا بادشاہ کے ایسے حکم پر کوئی ماں خوش ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ بادشاہ کو گالیاں دے گی۔وہ دُودھ دینے سے رُک سکتی ہی نہیں۔یہ بات اس کی طبیعت میں طبعاً موجود ہے اور دُودھ دینے میں اس کو کبھی بھی بہشت میں جانا یا اُس کا معاوضہ پانا مرکوز اور ملحوظ نہیں ہوتا اور یہ جوش طبعی ہے جو اُس کو فطرت نے دیا ہے۔ورنہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو چاہیے تھا کہ جانوروں کی مائیں بکری، بھینس یا گائے یا پرندوں کی مائیں اپنے بچوں کی پرورش سے علیحدہ ہوجاتیں۔ایک فطرت ہوتی ہے، ایک عقل ہوتی ہے اور ایک جوش ہوتا ہے۔ماؤں کا اپنے بچوں کی پرورش میں مصروف ہونا یہ فطرت ہے۔اسی طرح پر مامورین جوآتے ہیں اُن کی فطرت میں بھی ایک بات ہوتی ہے۔وہ کیا؟ مخلوق کے لئے دلسوزی اور بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے لیے ایک گدازش۔وہ طبعی طور پر چاہتے ہیں کہ لوگ ہدایت پاجاویں اور خدا تعالیٰ میں زندگی حاصل کریں۔پس یہ وہ سِرّ ہے جو لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے دُوسرے حصہ میں یعنی اظہار رسالتِ محمدؐیہ میں رکھا ہو اہے جیسے پیغام پہنچانے والے عام طور پر پیغام پہنچا دیتے ہیں اور اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اس پر عمل ہو یا نہ ہو۔گویا وہ تبلیغ صرف کان ہی تک محدود ہوتی ہے۔برخلاف اس کے ماموران الٰہی کان تک بھی پہنچاتے ہیں اور اپنی قوت قدسی کے زور اور ذریعہ سے دل تک بھی پہنچاتے ہیں اور یہ بات کہ جذب اور عقدِ ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے۔پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لئے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے۔اس لیے آپؐ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ (التوبۃ : ۱۲۹) یعنی یہ رسول تمہاری تکلیف کو دیکھ نہیں سکتا۔وہ اس پر سخت گراں ہے اور اُسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔ان