ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 462

۱۴؍مئی ۱۹۰۰ء صحبتِ صالحین کی غرض بات یہ ہے کہ مُردوں سے مدد مانگنے کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ ضعیف الایمان لوگوں کا کام ہے کہ مُردوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور زندوں سے دُور بھاگتے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں لوگ اُن کی نبوت کا انکار کرتے رہے اور جس روز انتقال کرگئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مُردوں کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی بلکہ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ (التوبۃ:۱۱۹) کا حکم دے کر زندوں کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔اور ہم جو کسی دوست کو یہاں رہنے کے واسطے کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محض اس کی حالت پر رحم کرکے ہمدردی اور خیر خواہی سے کہتے ہیں۔مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایمان دُرست نہیں ہوتا جب تک انسان صاحبِ ایمان کی صحبت میں نہ رہے اور یہ اس لیے کہ چونکہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ایک ہی وقت میں ہر قسم کی طبیعت کے موافقِ حال تقریر ناصح کے مُنہ سے نہیں نکلا کرتی۔کوئی وقت ایسا آجاتا ہے کہ اس کی سمجھ اور فہم کے مطابق اُس کے مذاق پر گفتگو ہوجاتی ہے جس سے اُس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے اور اگر آدمی بار بار نہ آئے اور زیادہ دِنوں تک نہ رہے تو ممکن ہے کہ ایک وقت ایسی تقریر ہو جو اُس کے مذاق کے موافق نہیں ہے۔اور اُس سے اُس کو بددلی پیدا ہو اور وہ حسنِ ظن کی راہ سے دُور جا پڑے اور ہلاک ہوجاوے۔غرض قرآن کریم کے منشا کے موافق تو زندوں ہی کی صحبت میں رہنا ثابت ہوتا ہے۔مدد خدا تعالیٰ سے ہی مانگنی چاہیے اور استعانت کے متعلق یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ اصل استمداد کا حق اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور اسی پر قرآن کریم نے زور دیا ہے چنانچہ فرمایا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵) پہلے صفاتِ الٰہی رَبّ، رحـمٰن، رحیم، مالک یوم الدین کا اظہار فرمایا۔پھر سکھایا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ