ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 459 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 459

دو انگریزوں کا قتل علاقہ پشاور میں ان دنوں کسی سفاک پٹھان نے دو بے گناہ انگریزوں کو قتل کر دیا۔اس پر حضرت اقدسؑ نے ایک مجمع میں فرمایا۔یہ جو دو انگریزوں کو مار دیا ہے۔یہ کیا جہاد کیا ہے؟ ایسے نابکار لوگوں نے اسلام کو بدنام کر رکھا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ ان لوگوں کی ایسی خدمت کرتا اور ایسے عمدہ طور پر ان سے برتاؤ کرتا کہ وہ اس کے اخلاق اور حسن سلوک کو دیکھ کر مسلمان ہو جاتے۔مومن کا کام تو یہ ہے کہ اپنی نفسانیت کو کچل ڈالے۔لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک کافر سے لڑے۔حضرت علیؓ نے اُس کو نیچے گرا لیا اور اس کا پیٹ چاک کرنے کو تھے کہ اس نے حضرت علیؓ پر تھوکا۔حضرت علیؓ یہ دیکھ کر اس کے سینے پر سے اُتر آئے۔وہ کافر حیران ہوا اور پوچھا کہ اے علیؓ! یہ کیا بات ہے؟ آپؓ نے فرمایا کہ میرا جنگ تیرے ساتھ خدا کے واسطے تھا لیکن جب کہ تو نے میرے منہ پر تھوکا تو میرے نفس کا بھی کچھ حصہ مل گیا۔اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا۔حضرت علیؓ کے اس فعل کا اس پر بہت بڑا اثر ہوا۔میں جب کبھی ان لوگوں کی بابت ایسی خبریں سنتا ہوں تو مجھے سخت رنج ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم سے بہت دور جا پڑے ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل ثواب کا موجب سمجھتے ہیں۔بعض مولوی مجھے اس لیے دجال کہتے ہیں کہ میں انگریزوں کے ساتھ محاربہ جائز نہیں رکھتا مگر مجھے سخت افسوس ہے کہ یہ لوگ مولوی کہلا کر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے کہ انگریزوں نے تمہارے ساتھ کیا برائی کی ہے اور کیا دُکھ دیا ہے۔شرم کی بات ہے کہ وہ قوم جس کے آنے سے ہم کو ہر قسم کی راحت اور آرام ملا۔جس نے آکر ہم کو سکھوں کے خون خوار پنجہ سے نجات دی اور ہمارے مذہب کی اشاعت کے لیے ہر قسم کے موقع اور سہولتیں دیں اُن کے احسان کا یہ شکر ہے کہ بے گناہ انگریزی افسروں کو قتل کر دیا جائے؟ میں تو صاف طور پر کہتا ہوں کہ وہ لوگ جو خون ناحق سے نہیں ڈرتے اور محسن کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت جواب دِہ ہیں۔ان مویولوں کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع کریں اور ناواقف اور جاہل لوگوں کو فہمائش کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ وہ امن، آزادی سے زندگی بسر