ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 446

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فقر نہ ملتا تو گویا فرعون کے بعد گدّی نشین آپؑ ہی تھے اور اگر خدا کا فضل نہ ہوتا تو نعوذ باللہ آپؑ کو فرعون بھی بننا تھا۔یاد رہے کہ فرعون کا لفظ بُرا نہیں۔اصل میں شاہانِ مصر کا یہ لقب تھا۔جس طرح پر قیصر و کسریٰ شاہان روم و ایران کا لقب تھا اور جس طرح پر آج زار روس اور سلطان روم کا لقب ہے۔میرا مطلب اس بیان سے صرف یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ یہ دوسرا سلسلہ نہ شروع کر دیتا تو ضرور تھا کہ وہی تخت نشین ہوتے اور یہ بھی سچی بات ہے کہ گو موسٰی کی ماں کو بھی ایک درد اور دکھ پہنچا تھا کہ جیتی جان کو دریا میں ڈالا لیکن اُس کی راحت اور مسرت کی کیا انتہا ہو سکتی ہے جب کہ خود خدا تعالیٰ نے موسٰی کی واپسی کا اس کو وعدہ دیا تھا۔الغرض موسٰی کی تعلیم تو یوں شاہانہ رنگ میں ہوئی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم بھی باقاعدہ ہوئی۔میرے پاس ایک یہودی مصنف کی کتاب ہے۔اس نے صاف اور واضح طور پر لکھا ہے بلکہ مسیحؑ کے اُستاد کا نام تک بتایا ہے اور پھر زد بھی کی ہے کہ اسی وقت سے توریت اور صحف انبیاء کے مضامین پسند آئے تھے اور جو کچھ انجیل میں ہے وہ صحف انبیاء سے زائد نہیں۔اس نے بتلایا ہے کہ ایک مدت دراز تک وہ یہود کے شاگرد رہے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کسی یہودی، نصاریٰ، ہندی سے پوچھو کہ آپ نے بھی کہیں تعلیم پائی تھی تو وہ صاف کہے گا کہ ہر گز نہیں!!! کتنی بڑی ربوبیت کا مظہر ہے۔انسان جب بچپن کی حالت سے آگے نکلتا ہے جو بلوغ سے پہلے ہے تو عام طور پر مکتب میں بٹھا دیاجاتا ہے۔یہ پہلا قدم ہوتا ہے مگر آپؐ کی زندگی کا پہلا قدم ہی گویا اعجاز تھا۔چونکہ آپؐ کو خاتم الانبیاء ٹھیرایا تھا اس لیے آپؐ کے وجود میں حرکات و سکنات میں بھی اعجاز رکھ دیئے تھے۔آپؐ کی طرز زندگی کہ ا۔ب تک نہیں پڑھا اور قرآن جیسی بے نظیر نعمت لائے اور ایسا عظیم الشان معجزہ امت کو دیا۔پہلے نبی آئے اور ایک خاص وقت تک دنیا میں رہ کر چل دئیے اور دین وہیں کالعدم ہو گیا اور خدا کو ان کا محو کرنا ہی منظور تھا مگر اس دین کے اظلال و آثار کا قیام منظور تھا اور چونکہ کوئی دین معجزات کے بدوں رہ نہیں سکتا ورنہ چند روز تک سماعی باتوں