ملفوظات (جلد 1) — Page 446
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فقر نہ ملتا تو گویا فرعون کے بعد گدّی نشین آپؑ ہی تھے اور اگر خدا کا فضل نہ ہوتا تو نعوذ باللہ آپؑ کو فرعون بھی بننا تھا۔یاد رہے کہ فرعون کا لفظ بُرا نہیں۔اصل میں شاہ<mark>ان</mark>ِ مصر کا یہ لقب تھا۔جس طرح پر قیصر و کسریٰ شاہ<mark>ان</mark> روم و ایر<mark>ان</mark> کا لقب تھا اور جس طرح پر آج زار روس اور سلط<mark>ان</mark> روم کا لقب ہے۔میرا مطلب اس بی<mark>ان</mark> سے صرف یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ یہ دوسرا سلسلہ نہ شروع کر دیتا تو ضرور تھا کہ وہی تخت نشین ہوتے اور یہ بھی سچی بات ہے کہ گو موسٰی کی ماں کو بھی ایک درد اور دکھ پہنچا تھا کہ جیتی ج<mark>ان</mark> کو دریا میں ڈالا لیکن اُس کی راحت اور مسرت کی کیا <mark>ان</mark>تہا ہو سکتی ہے جب کہ خود خدا تعالیٰ نے موسٰی کی واپسی کا اس کو وعدہ دیا تھا۔الغرض موسٰی کی تعلیم تو یوں شاہ<mark>ان</mark>ہ رنگ میں ہوئی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم بھی باقاعدہ ہوئی۔میرے پاس ایک یہودی مصنف کی کتاب ہے۔اس نے صاف اور واضح طور پر لکھا ہے بلکہ مسیحؑ کے اُستاد کا نام تک بتایا ہے اور پھر زد بھی کی ہے کہ اسی وقت سے توریت اور صحف <mark>ان</mark>بیاء کے مضامین پسند آئے تھے اور جو کچھ <mark>ان</mark>جیل میں ہے وہ صحف <mark>ان</mark>بیاء سے زائد نہیں۔اس نے بتلایا ہے کہ ایک مدت دراز تک وہ یہود کے شاگرد رہے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کسی یہودی، نصاریٰ، ہندی سے پوچھو کہ آپ نے بھی کہیں تعلیم پائی تھی تو وہ صاف کہے گا کہ ہر گز نہیں!!! کتنی بڑی ربوبیت کا مظہر ہے۔<mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> جب بچپن کی حالت سے آگے نکلتا ہے جو بلوغ سے پہلے ہے تو عام طور پر مکتب میں بٹھا دیاجاتا ہے۔یہ پہلا قدم ہوتا ہے مگر آپؐ کی زندگی کا پہلا قدم ہی گویا اعجاز تھا۔چونکہ آپؐ کو خاتم ال<mark>ان</mark>بیاء ٹھیرایا تھا اس لیے آپؐ کے وجود میں حرکات و سکنات میں بھی اعجاز رکھ دیئے تھے۔آپؐ کی طرز زندگی کہ ا۔ب تک نہیں پڑھا اور قرآن جیسی بے نظیر نعمت لائے اور ایسا عظیم الش<mark>ان</mark> معجزہ امت کو دیا۔پہلے نبی آئے اور ایک خاص وقت تک دنیا میں رہ کر چل دئیے اور دین وہیں کالعدم ہو گیا اور خدا کو <mark>ان</mark> کا محو کرنا ہی منظور تھا مگر اس دین کے اظلال و آثار کا قیام منظور تھا اور چونکہ کوئی دین معجزات کے بدوں رہ نہیں سکتا ورنہ چند روز تک سماعی باتوں