ملفوظات (جلد 1) — Page 445
قشر کے رنگ میں تھیں اُن کی حقیقت اس اُمت مرحومہ نے دکھلائی ہے۔سورۃ الفاتحہ میں جو خدا تعالیٰ کی یہ چار صفات بیان ہوئی ہیں کہ رَبُّ الْعَالَمِیْن، اَلرَّحْـمٰن، اَلرَّحِیْم، مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْن اگرچہ عام طور پر یہ صفات اس عالم پر تجلّی کرتی ہیں لیکن اُن کے اندر حقیقت میں پیشگوئیاں ہیں جن پر کہ لوگ بہت کم توجہ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ صفات الٰہیّہ کے حقیقی مظہر صرف آنحضرتؐ تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چاروں صفتوں کا نمونہ دکھایا۔کیونکہ کوئی حقیقت بغیر نمونہ کے سمجھ میں نہیں آسکتی۔رب العالمین کی صفت نے کس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں نمونہ دکھایا؟ آپؑ نے عین ضعف میں پرورش پائی۔کوئی موقع مدرسہ مکتب نہ تھا جہاں آپؐ اپنے روحانی اور دینی قویٰ کو نشو و نما دے سکتے۔کبھی کسی تعلیم یافتہ قوم سے ملنے کا موقع ہی نہ ملا۔نہ کسی موٹی سوٹی تعلیم کا ہی موقع پایا اور نہ فلسفہ کے باریک اور دقیق علوم کے حاصل کرنے کی فرصت ملی۔پھر دیکھو کہ باوجود ایسے مواقع کے نہ ملنے کے قرآن شریف ایک ایسی نعمت آپؐ کو دی گئی جس کے علوم عالیہ اور حقّہ کے سامنے کسی اور علم کی ہستی ہی کچھ نہیں۔جو انسان ذرا سی سمجھ اور فکر کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھے گا اس کو معلوم ہو جاوے گا کہ دنیا کے تمام فلسفے اور علوم اُس کے سامنے ہیچ ہیں اور سب حکیم اور فلاسفر اس سے بہت پیچھے رہ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر دو عظیم الشان نبی گزرے ہیں۔ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔مگر ان دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔اُن میں سے کسی کی نسبت نبی اُمی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔یہ تحدّی اور دعویٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہوا چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِيْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا (الشورٰی:۵۳) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تو گویا شاہزادوں کی طرح تعلیم پائی تھی اور فرعون کی گود میں شاہانہ نشوونما پایا۔ان کے لیے اتالیق مقرر کیے گئے کیونکہ اس زمانہ میں بھی اتالیق مقرر ہوتے تھے اور اگر