ملفوظات (جلد 1) — Page 444
اور قسم قسم کے تعیشات قرار دئیے گئے ہیں۔عورتیں اسی روز تمام زیورات پہنتی ہیں۔عمدہ سے عمدہ کپڑے زیب تن کرتی ہیں۔مرد عمدہ پوشاکیں پہنتے ہیں اور عمدہ سے عمدہ کھانے بہم پہنچاتے ہیں اور یہ ایسا مسرت اور راحت کا دن سمجھا جاتا ہے کہ بخیل سے بخیل انسان بھی آج گوشت کھاتا ہے۔خصوصاً کشمیریوں کے پیٹ تو بکروں کے مدفن ہو جاتے ہیں۔گو اور لوگ بھی کمی نہیں کرتے۔الغرض ہر قسم کے کھیل کود، لہو، لعب کا نام عید سمجھا گیا ہے مگر افسوس ہے کہ حقیقت کی طرف مطلق توجہ نہیں کی جاتی۔عیدالاضحیہ کی حقیقت درحقیقت اس دن میں بڑا سر یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جس قربانی کا بیج بویا تھا اور مخفی طور پر بویا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے لہلہاتے کھیت دکھائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے ذبح کرنے میں خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں دریغ نہ کیا۔اس میں مخفی طور پر یہی اشارہ تھا کہ انسان ہمہ تن خدا کا ہو جائے اور خدا کے حکم کے سامنے اُس کی اپنی جان، اپنی اولاد، اپنے اقربا و اعزا کا خون بھی خفیف نظر آوے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو ہر ایک پاک ہدایت کا کامل نمونہ تھے کیسی قربانی ہوئی۔خونوں سے جنگل بھر گئے۔گویا خون کی ندیاں بہہ نکلیں۔باپوں نے اپنے بچوں کو، بیٹوں نے اپنے باپوں کو قتل کیا اور وہ خوش ہوتے تھے کہ اسلام اور خدا کی راہ میں قیمہ قیمہ اور ٹکڑے بھی کیے جاویں تو ان کی راحت ہے۔مگر آج غور کرکے دیکھو کہ بجز ہنسی اور خوشی اور لہو و لعب کے روحانیت کا کونسا حصہ باقی ہے۔یہ عید اضحی پہلی عید سے بڑھ کر ہے اور عام لوگ بھی اس کو بڑی عید تو کہتے ہیں مگر سوچ کر بتلاؤ کہ عید کی وجہ سے کس قدر ہیں جو اپنے تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور روحانیت سے حصہ لیتے ہیں اور اُس روشنی اور نور کو لینے کی کوشش کرتے ہیں جو اس ضحی میں رکھا گیا ہے۔عید رمضان اصل میں ایک مجاہدہ ہے اور ذاتی مجاہدہ ہے اور اس کا نام بذل الروح ہے۔مگر یہ عید جس کو بڑی عید کہتے ہیں ایک عظیم الشان حقیقت اپنے اندر رکھتی ہے اور جس پر افسوس! کہ توجہ نہیں کی گئی۔خدا تعالیٰ نے جس کے رحم کا ظہور کئی طرح پر ہوتا ہے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک یہ بڑا بھاری رحم کیا ہے کہ اور اُمتوں میں جس قدر باتیں پوست اور