ملفوظات (جلد 1) — Page 439
غرض ہر ایک چیز خدا ہی کی طرف سے ہے۔خواہ وہ بسائط کی قسم سے ہو خواہ مرکبات کی قسم سے۔جبکہ یہ بات ہے کہ ایسے بادشاہوں کو بھیج کر اس نے ہزار ہا مشکلات سے ہم کو چھڑایا اور ایسی تبدیلی بخشی کہ ایک آتشی تنور سے نکال کر ایسے باغ میں پہنچا دیا جہاں فرحت افزا پودے ہیں اور ہر طرف ندیاں جاری ہیں اور ٹھنڈی خوش گوار ہوائیں چل رہی ہیں پھر کس قدر ناشکری ہوگی اگر کوئی اس کے احسانات کو فراموش کر دے۔خاص کر ہماری جماعت کو جس کو خدا نے بصیرت دی ہے اور اُن میں نفاق نہیں ہے کیونکہ انہوں نے جس سے تعلق پیدا کیا ہے اس میں نفاق نہیں شکر گزاری کا بڑا عمدہ نمونہ بننا چاہیے۔جماعت احمدیہ کی ایمانی فراست مجھے کامل یقین ہے کہ میری جماعت میں نفاق نہیں ہے اور میرے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں ان کی فراست نے غلطی نہیں کی اس لئے کہ میں درحقیقت وہی ہوں جس کے آنے کو ایمانی فراست نے ملنے پر متوجہ کیا ہے اور خدا تعالیٰ گواہ اور آگاہ ہے کہ میں وہی صادق اور امین اور موعود ہوں جس کا وعدہ لوگوں کو ہمارے سید و مولیٰ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے دیا گیا تھا مگر جنہوں نے مجھ سے تعلق پیدا نہیں کیا وہ اس نعمت سے محروم ہیں۔فراست گویا ایک کرامت ہے۔یہ لفظ فراست بفتح الفاء بھی ہے اور بکسر الفاء بھی۔زبر کے ساتھ اس کے معنی ہیں گھوڑے پر چڑھنا۔مومن فراست کے ساتھ اپنے نفس کا چابک سوار ہوتا ہے۔خدا کی طرف سے اس کو نور ملتا ہے۔جس سے وہ راہ پاتا ہے۔اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِتَّقُوْا فَرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ یعنی مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نور اللہ سے دیکھتا ہے۔غرض ہماری جماعت کی فراست حقّہ کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے نور کو شناخت کیا۔نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرو اسی طرح میں امید رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت عملی حالت میں ترقی کرے گی کیونکہ وہ منافق نہیں ہے اور وہ ہمارے مخالفوں کے اس طرز عمل سے بالکل پاک ہے کہ جب حکام سے ملتے ہیں