ملفوظات (جلد 1) — Page 430
نماز کا مقدمہ ہے اس کو بآواز بلند پکارنے سے روکا گیا تھا۔اگر کبھی مؤذّن کے منہ سے سہواً اَللّٰہُ اَکْبَرُ بآواز بلند نکل جاتا تو اس کو مار دیا جاتا تھا۔اسی طرح پر مسلمانوں کے حلال و حرام کے معاملہ میں بےجا تصرف کیا گیا تھا۔ایک گائے کے مقدمہ میں ایک دفعہ پانچ ہزار غریب مسلمان قتل کئے گئے۔بٹالہ کا واقعہ ہے کہ ایک سید وہیں کا رہنے والا باہر سے دروازہ پر آیا۔وہاں گائیوں کا ہجوم تھا۔اس نے تلوار کی نوک سے ذرا ہٹایا اور ایک گائے کے چمڑے کو خفیف سی خراش پہنچ گئی۔وہ بے چارہ پکڑ لیا گیا۔اور اس امر پر زور دیا گیا کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔آخر بڑی سفارشوں کے بعد اس کا ہاتھ کاٹا گیا۔مگر اب دیکھو کہ ہر قوم و مذہب کو کیسی آزادی ہے۔ہم صرف مسلمانوں کا ذکر کرتے ہیں۔فرائض مذہبی اور عبادات کے بجا لانے میں سلطنت نے پوری آزادی دے رکھی ہے۔اور کسی کے مال و جان و آبرو سے کوئی ناحق کا تعرض نہیں۔بر خلاف اُس پُر فتن وقت کے کہ ہر ایک شخص کیسا ہی اس کا حساب پاک ہو اپنی جان و مال پر لرزتا رہتا تھا۔اب اگر کوئی خود اپنا چلن خراب کرلے اور اپنی بے اندامی اور ارتکاب جرائم سے خود مستوجب عقوبت ٹھہر جائے تو اور بات ہے یا خود ہی سوء اعتقاد اور غفلت کی وجہ سے عبادت میں کوتاہی کرے تو جدا اَمر ہے لیکن گورنمنٹ کی طرف سے ہر طرح کی پوری آزادی ہے۔اس وقت جس قدر عابد بننا چاہو بنو کوئی روک نہیں۔گورنمنٹ خود معابد مذہبی کی حرمت کرتی ہے اور اُن کی مرمت وغیرہ پر ہزاروں روپیہ خرچ کر دیتی ہے۔سکھوں کے زمانہ میں اس کے خلاف یہ حال تھا کہ مسجدوں میں بھنگ گھٹتی تھی اور گھوڑے بندھتے تھے جس کا نمونہ خود یہاں قادیان میں موجود ہے اور پنجاب کے بڑے بڑے شہروں میں اس کے نمونے ملیں گے۔لاہور میں آج تک کئی ایک مسجدیں سکھوں کے قبضہ میں ہیں۔آج اس کے مقابل میں گورنمنٹ انگلشیہ ان بزرگ مکانوں کی ہر قسم کی واجب عزت کرتی ہے اور مذہبی مکانات کی تکریم اپنے فرائض میں سے سمجھتی ہے جیسا کہ انہی دنوں حضور وائسرائے لارڈ کرزن صاحب بہادر بالقابہ نے دہلی کی جامع مسجد میں جوتا پہن کر جانے کی مخالفت اپنی عملی حالت سے ثابت کر دی اور قابلِ اقتدا نمونہ بادشاہانہ اخلاق فاضلہ کا دیا اور اُن کی ان تقریروں سے جو وقتاً فوقتاً انھوں نے مختلف موقعوں