ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 429

کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفّل میں ہر قسم کے دکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لیے مَرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔پس خدا تعالیٰ نے تکمیل اخلاق فاضلہ کے لیے ربِّ النَّاس کے لفظ میں والدین اور مرشد کی طرف ایما فرمایا ہے تو کہ اس مجازی اور مشہود سلسلہ شکر گزاری سے حقیقی ربّ و ہادی کی شکر گزاری میں لے لئے جائیں۔اسی راز کے حل کی یہ کلید ہے کہ اس سورہ شریفہ کو رَبِّ النَّاسِ سے شروع فرمایا ہے اِلٰہِ النَّاسِ سے آغاز نہیں کیا چونکہ مرشد روحانی تربیت خدا تعالیٰ کے منشا کے موافق اس کی توفیق و ہدایت سے کرتا ہے۔اس لئے وہ بھی اسی میں شامل ہے۔پھر دوسرا ٹکڑا اس میں مَلِکِ النَّاسِ ہے۔تم پناہ مانگو خدا کے پاس جو تمہارا بادشاہ ہے۔یہ ایک اور اشارہ ہے تا لوگوں کو متمدن دنیا کے اصول سے واقف کیا جاوے اور مہذب بنایا جاوے۔حقیقی طور پر تو اللہ تعالیٰ ہی بادشاہ ہے مگر اس میں اشارہ ہے کہ ظلّی طور پر دنیا میں بھی بادشاہ ہوتے ہیں اور اسی لئے اس میں اشارۃً مَلِک وقت کے حقوق کی نگہداشت کی طرف بھی ایما ہے۔یہاں کافر اور مشرک اور مؤحّد بادشاہ کسی قسم کی قید نہیں بلکہ عام طور پر ہے۔کسی مذہب کا بادشاہ ہو۔مذہب اور اعتقاد کے حصے جدا ہیں۔قرآن میں جہاں جہاں خدا نے محسن کا ذکر فرمایا ہے وہاں کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہو اور مؤحّد ہو اور فلاں سلسلہ کا ہو بلکہ عام طور پر محسن کی نسبت فرمایا خواہ وہ کوئی مذہب رکھتا ہو۔هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ (الرَّحـمٰن:۶۱) کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا بھی ہو سکتا ہے۔سکھوں کا زمانہ ایک آتشی تنور تھا اب ہم اپنی جماعت کو اور تمام سننے والوں کو بڑی صفائی اور وضاحت سے سناتے ہیں کہ سلطنت انگریزی ہماری محسن ہے۔اس نے ہم پر بڑے بڑے احسان کیے ہیں۔جس کی عمر ۶۰ یا ۷۰ برس کی ہوگی وہ خوب جانتا ہوگا کہ ہم پر سکھوں کا ایک زمانہ گزرا ہے۔اس وقت مسلمانوں پر جس قدر آفتیں تھیں وہ پوشیدہ نہیں ہیں۔ان کو یاد کرکے بدن پر لرزہ پڑتا ہے اور دل کانپ اٹھتا ہے۔اس وقت مسلمانوں کو عبادات اور فرائض مذہبی کی بجا آوری سے جو اُن کو جان سے عزیز تر ہیں روکا گیا تھا۔بانگ نماز جو